2026 پاکستان کا سال؟ ماہرِ نجوم سامعہ خان کی بڑی سیاسی پیشگوئیاں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
معروف پاکستانی ماہر علمِ نجوم سامعہ خان نے ایک بار پھر 2026 کے حوالے سے پیشگوئیاں کی ہیں۔ سامعہ خان کا کہنا تھا کہ اسی شو میں میں نے کہا تھا کہ 15 مئی 2025 وہ تاریخ ہوگی جہاں سے پاکستان کا نقشہ بدلے گا، میرا ملک سپر پاورز کا لاڈلہ ہو جائے گا، جس پاکستان کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا میں نے کہا تھا 15 مئی سے اس کی شروعات ہو جائے گی اور ویسا ہی ہوا۔سامعہ خان نے کہا یہ جو نیا پاکستان آپ دیکھ رہے ہیں، نئے سال اس کی پرواز میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ یہ مزید ترقی ہی کرے گا۔میزبان نے موجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوال کیا جس پر سامعہ نے جواب دیا، ایک نیا نظام آئے گا جس کی بنیاد اس نئے سال میں رکھی جا سکتی ہے۔ماہر علمِ نجوم کا کہنا تھا کہ ملک میں تین لوگ ہیں جن کا سیاسی ستارہ مضبوط اور مستحکم دکھائی دیتا ہے اور ان میں شہباز شریف صاحب بھی ہیں، اگر کچھ ہوگا تو وہ باہمی مفاہمت کے ساتھ ہوگا۔بلاول بھٹو کے حوالے سے سامعہ کا کہنا تھا کہ ان کی سیاسی گرومنگ شاندار ہوئی ہے لیکن مجھے وہ سیاست میں زیادہ لمبا نہیں نظر آرہے، البتہ آصفہ بھٹو زرداری وہ بچی ہیں جو بے نظیر صاحبہ کی لیگیسی آگے لے کر چلیں گی۔پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے حوالے سے سامعہ نے کہا کہ جنوری اور فروری کے دوسرے ہفتے تک ڈیل کے ذریعے کچھ امکان موجود ہیں، لیکن اس کے بعد یہ مشکل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے حوالے سے تھا کہ نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔