بلوچستان، ضلعی انتظامیہ افسران کے اختیارات میں اضافہ، کسی کو بھی گرفتار کر سکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
محکمہ داخلہ نے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو "جسٹس آف پیس" مقرر کر دیا ہے۔ جسکے تحت مختلف اختیارات دیئے گئے ہیں، جن میں کسی بھی شخص پر شبہ کی صورت میں گرفتار کیا جا سکے گا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان حکومت نے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے اور پولیس کو مقدمات کے اندراج کی ہدایت کے اختیارات دے دیئے ہیں۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حکومت بلوچستان نے ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ ڈویژن، ضلع اور سب ڈویژن کے دائرہ اختیار میں "جسٹس آف پیس" مقرر کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مقرر کردہ جسٹس آف پیس کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے جو ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے اور 22 بی میں دیے گئے ہیں اور وہ اپنے دائرہ اختیار میں یہ اختیارات استعمال کریں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دی۔
واضح رہے کوڈ آف کرمنل پروسیجر یعنی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 اے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس آف پیس کو پولیس افسر کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں دفعہ 54 اور 55 کے تحت پولیس افسر اور انچارج پولیس سٹیشن کے اختیارات بھی شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتا ہے، اگر وہ کسی قابل گرفت جرم میں ملوث ہو، اس کے خلاف معقول شکایت یا قابل اعتبار اطلاع موجود ہو یا اس پر معقول شبہ ہو۔ اگر کسی شخص کے قبضے میں گھر توڑنے کے آلات ہوں، چوری شدہ مال پایا جائے، یا وہ پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالے یا قانونی حراست سے فرار ہو جائے تو جسٹس آف پیس گرفتاری کر سکتا ہے۔
مزید برآں جسٹس آف پیس کو کسی بھی شخص کی شناخت کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کرنے، کسی بھی دستاویز کی تصدیق یا ایسی دستاویزات کی توثیق کرنے کا مجاز ہے جو قانون کے تحت مجسٹریٹ سے تصدیق شدہ ہونا ضروری ہو۔ اس کے علاوہ جسٹس آف پیس شہریوں کی شکایت پر پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت کر سکتا ہے جبکہ تفتیش ایک افسر سے دوسرے کو منتقل کرنے اور اختیارات میں کوتاہی یا زیادتی پر شکایات پر بھی پولیس کو ہدایات دے سکتا ہے۔ تاہم ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں کہ انتظامی افسران پولیس افسران کے برابر اختیارات استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افسران کا بنیادی کردار صرف یہ ہوگا کہ اگر کوئی شہری ڈپٹی کمشنر کے پاس شکایت لے کر آئے تو وہ قانون کے مطابق پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست بھیج سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جسٹس آف پیس پولیس کو کسی بھی سکتا ہے کے تحت
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔