کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت: وزیراعظم کی مزید تلاش کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کوہاٹ میں حال ہی میں دریافت ہونے والے تیل و گیس کے ذخیرے پر بریفنگ دی گئی جس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے نئے ذخائر کی تلاش کو ترجیح دینے کی ہدایت کی تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کا نیا باب، 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع
اے پی پی کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن سے متعلق امور پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملکی توانائی وسائل کی دریافت اور ترقی قومی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے تیل و گیس کی درآمد اور مقامی استعمال سے متعلق پوری سپلائی چین کو ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹل بنانے کی بھی ہدایت جاری کی۔
اس موقعے پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع کوہاٹ کے نشپا بلاک میں تیل اور گیس کے اہم نئے ذخائر دریافت کیے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ان نئے ذخائر سے یومیہ تقریباً 4 ہزار 100 بیرل تیل حاصل ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے اس بڑی دریافت پر قوم کو مبارکباد دی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔
مزید پڑھیے: آرامکو نے سعودی عرب میں تیل اور گیس کے 14 نئے ذخائر دریافت کرلیے
اجلاس میں وزیراعظم کو پٹرولیم اور گیس کے شعبے کے لیے تیار کردہ جامع روڈ میپ پر بریفنگ دی گئی۔
تیل و گیس کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائزیشن اسمگلنگ روکنے میں معاونوزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل و گیس کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائزیشن سے اسمگلنگ کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے گی جس کا براہ راست فائدہ قومی خزانے کو پہنچے گا۔
جون 2026 تک 3 لاکھ 50 ہزار نئے گیس کنکشنز کی فراہمی کا ہدف فراہم اعلیٰ سطحی اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ موجودہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کو گزشتہ سال کے مقابلے میں گیس کے دباؤ میں بہتری کا سامنا رہا۔
حکام نے بتایا کہ آر ایل این جی کنکشنز پر کام تیزی سے جاری ہے اور جون 2026 تک 3 لاکھ 50 ہزار نئے کنکشنز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ شیوا اور بتانی گیس فیلڈز کی پائپ لائنز فعال کر دی گئی ہیں جبکہ کوٹ پالک گیس فیلڈ سے پائپ لائن پر کام جاری ہے۔
مزید پڑھیں: کوہاٹ: تیل و گیس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
او جی ڈی سی پاکستان میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: او جی ڈی سی پاکستان میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت وزیراعظم شہباز شریف ذخائر دریافت تیل و گیس کی اجلاس میں میں تیل گیس کے گیا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔