ن لیگ کے رہنما اور وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جن اکاؤنٹس سے فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف مہم جوئی ہورہی ہے وہ بند ہونی چاہیے، پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنے آپ کو ان اکاؤنٹس سے دور کرنا چاہیے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو انہوں نے احتجاج کی جو کال دی ہے اس پر عمل درآمد نہیں کرسکیں گے، پہیہ جام کی کال واپس لیں ورنہ 9 مئی کی طرح دھر لیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: اس وقت مذاکرات کا کوئی ماحول نظر نہیں آ رہا، سلمان اکرم راجا

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی ہونی چاہیے ان بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، عمران خان اور ایک وہ ہیں جنہیں سب جانتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان پانچوں میں سے ایک مسلسل گالیاں دے رہا ہے، باقی کسی لیڈر نے ان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال نہیں کیے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، سیاستدانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف غیراخلاقی بات نہیں کرنی چاہیے، شہدا کے خلاف پی ٹی آئی اکاؤنٹس میں ٹرولنگ ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان مذاکرات پر نہیں تصادم اور فتنہ و فساد پر یقین رکھتے ہیں، رانا ثنا اللہ

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حق کی طرف نہیں ملک میں انارکی کی طرف سفر کررہی ہے، اگر یہی کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیسے ہوسکتی ہے، اگر ان کا خیال ہے کہ ادارے کے خلاف مہم جوئی کرنے سے کوئی دباؤ آئے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ مستقبل میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو اگلی قیادت بلاشبہ مریم نواز شریف کی ہوگی، اسی طرح پیپلز پارٹی کی مستقبل کی قیادت بلاول بھٹو ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی رانا ثنا اللہ مذاکرات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی رانا ثنا اللہ مذاکرات رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا