ملک کے 5 بڑوں میں اعتماد سازی ہونی چاہیے، لیکن پی ٹی آئی اداروں کیخلاف مہم سازی کررہی ہے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ن لیگ کے رہنما اور وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جن اکاؤنٹس سے فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف مہم جوئی ہورہی ہے وہ بند ہونی چاہیے، پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنے آپ کو ان اکاؤنٹس سے دور کرنا چاہیے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو انہوں نے احتجاج کی جو کال دی ہے اس پر عمل درآمد نہیں کرسکیں گے، پہیہ جام کی کال واپس لیں ورنہ 9 مئی کی طرح دھر لیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اس وقت مذاکرات کا کوئی ماحول نظر نہیں آ رہا، سلمان اکرم راجا
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی ہونی چاہیے ان بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، عمران خان اور ایک وہ ہیں جنہیں سب جانتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان پانچوں میں سے ایک مسلسل گالیاں دے رہا ہے، باقی کسی لیڈر نے ان کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال نہیں کیے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، سیاستدانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف غیراخلاقی بات نہیں کرنی چاہیے، شہدا کے خلاف پی ٹی آئی اکاؤنٹس میں ٹرولنگ ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان مذاکرات پر نہیں تصادم اور فتنہ و فساد پر یقین رکھتے ہیں، رانا ثنا اللہ
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حق کی طرف نہیں ملک میں انارکی کی طرف سفر کررہی ہے، اگر یہی کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیسے ہوسکتی ہے، اگر ان کا خیال ہے کہ ادارے کے خلاف مہم جوئی کرنے سے کوئی دباؤ آئے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ مستقبل میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو اگلی قیادت بلاشبہ مریم نواز شریف کی ہوگی، اسی طرح پیپلز پارٹی کی مستقبل کی قیادت بلاول بھٹو ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی رانا ثنا اللہ مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی رانا ثنا اللہ مذاکرات رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔