پنجاب میں پتنگ بازی پرمکمل پابندی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
لاہور: محکمہ داخلہ نے پتنگ بازی کی ممانعت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے لیے پنجاب بھر میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
حکومت پنجاب نے صوبہ کے بعض علاقوں میں غیر قانونی پتنگ بازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ صوبہ بھر میں کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کے تحت پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے۔
صوبائی کابینہ نے قانون کے مطابق صرف 6 ،7، 8 فروری کو لاہور میں محدود پیمانے پر بسنت کی اجازت دی،مقررہ وقت سے قبل کسی بھی مقام پر پتنگ سازی یا پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے۔
مراسلے میں کہاگیاہے کہ غیر قانونی پتنگ بازی انسانی جانوں اور عوامی تحفظ کےلیے سنگین خطرہ ہے،غیر قانونی پتنگ بازی کے باعث راہگیروں کے زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو تشویشناک ہیں ۔
مراسلے میں کہاگیاہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے،انسانی جانوں کےلیے خطرہ بننے والی پتنگ بازی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔
جشن بہاراں کے دوران ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ بسنت کی اجازت دی گئی،بسنت کے دوران بھی تندی، دھاتی ڈور، مانجھا لگی ڈور کے استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی۔
مراسلے کے مطابق بغیر اجازت پتنگ بازی اور فروخت کرنے والے بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا کاٹیں گے،پتنگ بازی میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پتنگ بنانے والوں، پتنگ بازی کا سامان فراہم کرنے والوں اور پتنگ بازی میں ملوث افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جائے ۔
مراسلے میں کہاگیاہے کہ تمام کارروائیاںکائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کے مطابق کی جائیں۔
حکومتی اجازت کے بغیر پتنگ سازی اور پتنگ بازی مکمل طور پر غیر قانونی ہے،تمام اضلاع ہدایات پر عملدرآمد کی رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پتنگ بازی پر
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔