محکموں کے مابین ہم آہنگی اور رابطہ کاری پر توجہ دی جائے، نگران وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے گلگت بلتستان دیہی ترقیاتی پروگرام (GBRSP) کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تعمیر و ترقی، عوام کے معیار زندگی بہتر بنانے، غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کو بااختیار بنانے کے حوالے سے یہ ادارہ منفرد اور اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے گلگت بلتستان دیہی ترقیاتی پروگرام (GBRSP) کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تعمیر و ترقی، عوام کے معیار زندگی بہتر بنانے، غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کو بااختیار بنانے کے حوالے سے یہ ادارہ منفرد اور اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان رولر سپورٹ پروگرام مختلف پروگرمز کے ذریعے علاقے کی تعمیر و ترقی، زراعت، تعلیم اور کم آمدنی والے افراد کی آمدن میں اضافے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے ادارے کے اغراض و مقاصد اور اہداف کا تعین کرے اور پھر ان اہداف کے حصول کیلئے قومی و بین الاقوامی اداروں اور ڈونرز ایجنسیوں سے موثر روابط استوار کرے۔ جی بی آر ایس پی کے قیام کا مقصد عوام کو تیز اور فوری سہولیات میسر کرنا ہے جس کیلئے یہ ادارہ جامع پالیسی اور حکمت عملی مرتب کرے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکموں کے مابین ہم آہنگی اور رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی جائے تاکہ منصوبوں کی تعمیر میں قومی خزانے کا نقصان نہ ہو۔ بنیادی طور پر ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وسائل کا استعمال عوام کی بہتری اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے ہو جس سے عوام کے معیار زندگی میں بہتری آسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نگران وزیر اعلی کی تعمیر
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔