2025ء میں چیف کورٹ گلگت بلتستان نے 2962 مقدمات نمٹا دیئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ترجمان چیف کورٹ کی جانب سے جاری سالانہ عدالتی کارکردگی رپورٹ کے مطابق نمٹائے گئے مقدمات میں 2158 دیوانی جبکہ 804 فوجداری مقدمات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان چیف کورٹ نے سال 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 2962 مقدمات کے فیصلے سنا کر نمٹا دئیے۔ ترجمان چیف کورٹ کی جانب سے جاری سالانہ عدالتی کارکردگی رپورٹ کے مطابق نمٹائے گئے مقدمات میں 2158 دیوانی جبکہ 804 فوجداری مقدمات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025ء کے دوران گلگت بلتستان چیف کورٹ میں مجموعی طور پر 3275 نئے مقدمات دائر کیے گئے، جبکہ عدالتی فیصلوں کے بعد اس وقت 2341 مقدمات مختلف بینچز میں زیر سماعت ہیں۔ چیف کورٹ کے چیف جج جسٹس علی بیگ کی سربراہی میں مجموعی طور پر 1026 مقدمات نمٹائے گئے، جن میں چیف جج کے سنگل بینچ میں 229 مقدمات کے فیصلے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح جسٹس ملک عنایت الرحمن کی سربراہی میں مجموعی طور پر 679 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ انہوں نے سنگل بینچ میں 142 مقدمات پر فیصلے صادر کیے اور جسٹس جوہر علی خان کی سربراہی میں مجموعی طور پر 1051 مقدمات کے فیصلے سنا کر نمٹائے گئے، جن میں 405 مقدمات سنگل بینچ کے تحت نمٹائے گئے۔
جسٹس راجہ شکیل احمد کی سربراہی میں مجموعی طور پر 637 مقدمات نمٹا دیئے جبکہ انہوں نے سنگل بینچ میں 258 مقدمات کے فیصلے کیے۔ اسی طرح جسٹس مشتاق محمد کی سربراہی میں مجموعی طور پر 572 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ سنگل بینچ کے ذریعے 186 مقدمات بھی نمٹا دیئے گئے۔ مزید برآں جسٹس جہانزیب خان ڈویژن بینچ میں 577 مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کا حصہ رہے، اور سنگل بینچ میں انہوں نے 162 مقدمات کے فیصلے سنا کر نمٹائے۔ بینچ وار کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ گلگت پرنسپل بینچ میں 2343 مقدمات، سکردو بینچ میں 905 جبکہ دیامر بینچ میں 64 مقدمات کے فیصلے سنا کر نمٹائے گئے، جو چیف کورٹ کی مؤثر عدالتی تقسیم، علاقائی رسائی اور انصاف کی ہمہ جہت فراہمی کا مظہر ہے۔ بیان کے مطابق چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس علی بیگ کی قیادت میں عدالتِ عالیہ (چیف کورٹ) گلگت بلتستان عوام کو ان کی دہلیز پر سستا، فوری، مؤثر اور بلاامتیاز انصاف فراہم کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔ عدالتی حکام کے مطابق عدالتی اصلاحات، جدید انتظامی و عدالتی اقدامات اور معزز ججز و عدالتی عملے کی انتھک محنت کے باعث انصاف کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سربراہی میں مجموعی طور پر سنگل بینچ میں گلگت بلتستان مقدمات نمٹا نمٹائے گئے کے مطابق چیف کورٹ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم