بھارت اسرائیل جڑواں ریاستیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-03-3
میاں منیر احمد
ہندو اور یہودی بھارت اور اسرائیل کی شکل میں خطہ ٔ زمین پر ناسور ہیں‘ دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں‘ حرکتیں بھی ایک جیسی ہیں اور کرتوت بھی ایک جیسے ہیں۔ دونوں توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں‘ ناجائز قبضے ان دونوں کی پہچان ہے‘ کشمیر اور فلسطین کی سرزمین اس کی ایک مثال ہے۔ اب اسرائیل نے ایک اور حرکت کی ہے‘ صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کرلیا ہے‘ پاکستان اور مسلم ممالک نے اسے مسترد کرکے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 26 دسمبر 2025ء کو اسرائیل کی جانب سے اْٹھایا جانے والا یہ غیرمعمولی قدم ’’ہارن آف افریقا‘‘ اور بحیرۂ احمر کے خطے کے اَمن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اِس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے کہ کسی ملک کے کسی حصے کو علٰیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے عالمی اصولوں کے منافی ہے اور اسرائیل کے ’’توسیع پسندانہ عزائم‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلامیے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت اور اِس کے تمام علاقوں پر اْس کی حاکمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا اور صومالیہ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو عالمی اَمن کے لیے ایک خطرناک مثال قرار دیا گیا۔ اِس اعلامیے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے اِس اقدام کا فلسطین کے تناظر میں جائزہ لینا بھی تھا، مسلم ممالک نے اِس خدشے اور اِمکان کو مکمل طور پر مسترد کیا کہ اِس قسم کے اقدامات کا مقصد فلسطینی عوام کو اْن کی اپنی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کسی کوشش سے جْڑا ہو سکتا ہے، انہوں نے واضح کر دیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ مسلم اْمہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور عالمی قوانین کی بالادستی کے لیے متحد ہے۔ اسرائیل کے سرپرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صومالی لینڈ کو بطور ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کیا ہے اور تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘ کی پالیسی اپنا لی ہے۔ امریکا تو اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے زور لگا رہا ہے وہ اس وقت مسلم دنیا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا مگر اس نے اسرائیل کو صومالی لینڈ کے معاملے پر جاحانہ انداز میں منع بھی نہیں کیا‘ یہی اس کی منافقت کی معراج ہے۔
نائب وزیر ِاعظم اور وزیر ِ خارجہ اسحاق ڈار سے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی نے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور سلامتی کونسل میں پاکستان سے تعاون کی درخواست کی تھی پاکستان نے انہیں اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے‘ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کی ریاست صومالی لینڈ کو خودمختار ملک تسلیم کرنے کے اقدام پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا؟۔ اسرائیل نے صومالیہ کے علٰیحدگی پسند خطے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرکے دنیا بھر کو چیلنج دیا ہے اسرائیل اب اس علاقے کی زرعت اور دیگر شعبوں سے بھی تعاون کے نام پر عرق چوسنا چاہے گا! اسرائیل کا یہ اقدام در اصل مسلم امہ کے لیے ایک نیا امتحان ہے کہ مسلم ممالک خودمختاری پر حملہ ہوا ہے۔
صومالیہ کا جغرافیہ بہت اہم ہے یہ مشرقی افریقا کے ساحل پر ہے، اِس کے شمال میں خلیج عدن اور جبوتی، مغرب میں ایتھوپیا، مشرق میں بحر ِ ہند اور جنوب میں کینیا واقع ہیں۔ انیسویں صدی میں اس کا کچھ حصہ اطالوی سامراج کے قبضے میں چلا گیا تھا اور شمال مغربی علاقہ برطانوی کنٹرول میں رہا۔ صومالیہ 1960ء میں آزاد ہوا اور اطالوی اور برطانوی زیر ِانتظام علاقوں کو ملا کر ’’متحدہ جمہوریہ صومالیہ‘‘ قائم ہوا، 1969ء میں فوجی بغاوت ہوگئی محمد سیاد بری نے منتخب صدر عبد الرشید شارمارکے کو قتل کردیا اور صومالیہ اشتراکی ریاست بن گئی فوجی حکومت 22 سال تک رہی اور ملک میں نئے نئے تنازعات ابھرتے رہے، 1991ء میں یہاں فوجی حکومت ختم ہوئی تو جاتے جاتے ملک کو بے شمار مسائل میں دھکیل گئی فوجی حکومت کے جاتے ہی وہاں وار لینڈ سرداروں نے سر اْٹھا لیا، ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہو گئی جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ 1991ء ہی میں برطانوی زیر ِ انتظام رہنے والے شمالی علاقے پر مشتمل ’’جمہوریہ صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کا اعلان کر دیا تاہم اِسے کسی ملک یا عالمی ادارے کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا اب اسرائیل نے 26 دسمبر 2025ء کو یہ حرکت کی ہے یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ صومالی لینڈ کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور پولیس فورس ہے۔ 1998ء میں ایک حصہ ’’پونٹ لینڈ‘‘ نے بھی نیم خودمختار انتظامی نظام کا اعلان کیا تھا، اِس نے صومالی لینڈ کے برعکس مکمل آزادی کا اعلان نہیں کیا بلکہ صومالیہ کا حصہ رہتے ہوئے خودمختاری کو ترجیح دی تھی‘ یہاں یہ سارے مسائل فوجی حکومت کے دیے ہوئے ہیں۔ یہاں دو سوال ہیں پہلا صومالیہ کے بارے میں کہ مسلم امہ کیا کرتی رہی؟ دوسرا یہ کہ اسرائیل اب کیوں کودا ہے؟ یہ دراصل ’’ابراہام اکارڈ‘‘ پر مسلم دنیا کو لانے کی بلیک میلنگ ہے اور مسلم دنیا کشمیر کی طرح یہاں بھی خاموش رہے گی؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ اسرائیل کے صومالیہ کے فوجی حکومت صومالیہ کی کا اعلان کیا گیا نہیں کی کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان