او آئی سی، آزاد صومالی لینڈ کے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پاکستان (نیوزڈیسک) اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ ریجن کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے معاملے پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس غیر قانونی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
اس معاملے پر او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا غیرمعمولی اجلاس جدہ میں منعقد ہوا جس میں صومالیہ کی صورتحال اور اسرائیل کے یکطرفہ و غیرقانونی اقدام پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں مستقل نمائندے محمد فواد شیرنے غیر معمولی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی جس دوران صومالی لینڈ ریجن کو یکطرفہ اور غیر قانونی تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلےکی شدید مذمت کی گئی ۔
اوآئی سی میں مستقل نمائندے فواد شیرنے صومالیہ کی خودمختاری پر پاکستانی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسرائیلی اقدام صومالیہ کی سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے،اسرائیل کی فلسطینی عوام کو صومالی لینڈ ملک بدری پالیسی سخت پریشان کن ہے۔
فواد شیر کا کہناتھا کہ اسرائیل کافلسطین پرقبضہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازعات کا مرکزی ذریعہ ہے، اسرائیل اب اس غیر مستحکم رویئے کو افریقہ میں برآمد کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے علاقائی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اجلاس کامشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا گیا،اعلامیےمیں صومالیہ کی حمایت میں اوآئی سی ممالک کے خیالات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔