Jasarat News:
2026-06-02@22:14:57 GMT

حکومتی دعوے اور زمینی حقائق!

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے دو سال کے دوران بہترین معاشی ترقی کی ہے، اقتصادی اصلاحات ملک کے بہتر مستقبل کا پتا دے رہی ہیں۔ ہم کاغذی نہیں، عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ ’’اقتصادی گورننس اصلاحات‘‘ کی تقریب رونمائی سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے معاشی میدان میں اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا اور معاشی بہتری کے لیے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل فیصلوںکے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں وزیر اعظم نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کا شکار معیشت ورثے میں ملی، چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، مشکل فیصلوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 3.

3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 8 فی صد سے بڑھ کر 10 فی صد سے زائد ہو گیا ہے، گزشتہ 2 سال میں پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے۔ افراط زر 29.2 فی صد سے کم ہو کر 4.5 فی صد تک آ چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، 10 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں، حکومتی نظام کو وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل پر منتقل کیا۔ چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی 2025ء کے آخری روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مذکورہ بالا کم و بیش تمام دعوئوں کی توثیق کی ہے اور نہ صرف معاشی اشاریوں کے بہتری کی جانب گامزن ہونے کی خوش خبری قوم کو سنائی ہے بلکہ یہ حیران کن اور عوام کے لیے ناقابل یقین دعویٰ بھی فرمایا ہے کہ مہنگائی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاشی استحکام، مہنگائی کے خاتمے اور سرمایا کاری کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں۔ معاشی اصلاحات کی بدولت سرمایا کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ معاشی بہتری کے باعث متعدد قرضوں کی بروقت ادائیگی کی گئی۔ اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ کی کارکردگی بھی بہترین رہی۔ وزیر خزانہ نے قومی پرچم بردار فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کو بھی اپنی حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا اور بتایا کہ گزشتہ برس قرضوں کی درست منصوبہ بندی اور مالیاتی بچت کے ذریعے چھے سو سے سات سو ارب روپوں کی بچت کی گئی۔

کس کی یہ مجال ہے کہ وہ وزیر اعظم اور ان کے وزیر خزانہ کے شاندار معاشی کارکردگی اور مہنگائی کے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہونے کے دعوئوں کی تردید یا انہیں تسلیم کرنے سے انکار کی جرأت کرے مگر کیا کیا جائے ان زمینی حقائق کا جو ان دعوئوں کی تائید کرنے سے انکاری ہیں اور ان حکومتی اداروں کو بھی کون سمجھائے جو حکومتی وزرائے کرام کی تقاریر سنے اور پڑھے بغیر ہی اعداد و شمار اور رپورٹیں جاری کر دیتے ہیں۔ جس روز وزیر اعظم اپنی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج اور حکومت کی شاندار معاشی کارکردگی اور ان کے وزیر خزانہ مہنگائی کے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہونے کی خوش خبریاں قوم کو سنا رہے تھے، عین اسی روز یعنی 2025ء کے آخری دن وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آئوٹ لک رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق رواں مالی سال 2025-26ء کے پہلے پانچ ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا جب کہ رواں ماہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.5 فی صد تک جا چکی ہے، جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فی صد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے، پہلے 5 ماہ میں برآمدات 3.2 فی صد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی، ترسیلات زر 9.3 فی صد اضافے سے 16.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات میں 11.1 فی صد اضافہ، حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے دعوئے کس حد تک درست ہیں وہ معاشی بہتری، سرمایا کاری کے لیے سازگار فضا اور کم ترین سطح پر مہنگائی کے دعویدار ہیں مگر ان کی اپنی ہی وزارت خزانہ کی اس رپورٹ میں حقائق کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات میں اضافہ جب کہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے اسی طرح ملک میں سرمایا کاری میں بھی اضافہ نہیں بلکہ 25.3 فی صد یعنی ایک چوتھائی سے بھی زائد کمی واقع ہوئی ہے۔ ہاں البتہ ترسیلات زر میں ضرور اضافہ ہوا ہے جس میں یقینا حکومت سے کہیں زیادہ بیرون ملک پاکستانیوں کی محنت و کاوش کو دخل ہے۔ اب آئیے ذرا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی طرف جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوتا ہے گزشتہ ایک سال میں کون سی چیز کتنی مہنگی اور کون سی، چیز سستی ہوئی، ادارہ شماریات کی سرکاری رپورٹ میں تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ایک سال قبل ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 137 روپے 33 پیسے تھی جواب 159 روپے 74 پیسے ہو چکی ہے تاہم سال 2025ء میں ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 229 روپے تک پہنچی۔ ایک سال قبل ملک میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت 1794 روپے 93 پیسے تھی اور سال 2025ء کے اختتام پر آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت بڑھ کر 2199 روپے 85 پیسے پر پہنچ گئی۔ ایک سال قبل زندہ برائلر چکن کی فی کلو قیمت 409 روپے، 22 پیسے تھی اور اب چکن کی فی کلو قیمت بڑھ کر 424 روپے 89 پیسے ہو گئی ہے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں بیف 13.01، گڑ 12.46 اور کیلے 11.24 فی صد مہنگے ہوئے، اسی طرح ایک سال میں پسی ہوئی مرچ 10.31 اور انڈے 9.71 فی صد مہنگے ہوئے جب کہ پائوڈر دودھ 9.51 فی صد مہنگا ہوا، ایک سال میں گیس چارجز میں 29.85 اور جلانے والی لکڑی کی قیمت میں 11.02 فی صد کا اضافہ ہوا۔ ایک سال کے دوران مٹن، تازہ دودھ، دہی، گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ایک سال میں آلو 49.79 فی صد سستے ہوئے جب کہ لہسن 38.17 فی صد اور دال چنا کی قیمت میں 29.66 فی صد کی کمی ہوئی، اسی طرح پیاز 29.23 اور چائے کی پتی 17.79 فی صد سستی ہوئی۔ اہم ترین حکومتی ذمے داران کے دعوئوں اور سرکار ہی کے اداروں کے فراہم کردہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اس کے علاوہ کیا عرض کیا جا سکتا ہے کہ اس قدر اہم مناصب پر بیٹھ کر اس قدر غیر ذمے دارانہ طرزِ عمل ان کے شایان شان نہیں۔ خدارا وہ اپنے مناصب کی عزت اور وقار ہی کا خیال کریں اور زمینی حقائق کے منافی بلند بانگ دعوئوں کے ذریعے انہیں خاک میں نہ ملائیں۔

 

اداریہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ادارہ شماریات کی ایک سال میں فی کلو قیمت مہنگائی کے کرتے ہوئے اضافہ ہوا ارب ڈالر حکومت کی کے مطابق ملک میں کی قیمت بڑھ کر کے لیے اور ان

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا