شہید سلیمانی ظالم کیخلاف اور مظلوم کا ساتھ دینے کی مولا علیؑ کی وصیت کا عملی نمونہ تھے، صدر پزیشکیان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ سردار سلیمانی اخلاق، صداقت، شجاعت، حق طلبی اور مظلوم کے دفاع کے ہر میدان میں ایک بے مثال نمونہ تھے، آج جو چیز ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا کیے ہوئے ہے، وہی راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا ہے، اور یہ راستہ ان عظیم شخصیات کے راستے کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشیکیان نے سردار حاج قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب میں اس بات پر زور دیا کہ ان کے راستے کو جاری رکھنا ہم سب کی قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے سیاسی نامہ نگار کے مطابق مسعود پزشکیان نے سردار سپہبد حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سردارِ شہید سلیمانی کے نام، یاد اور راستے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ان عظیم ہستیوں کے راستے کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سردار سلیمانی اخلاق، صداقت، شجاعت، حق طلبی اور مظلوم کے دفاع کے ہر میدان میں ایک بے مثال نمونہ تھے، آج جو چیز ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا کیے ہوئے ہے، وہی راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا ہے، اور یہ راستہ ان عظیم شخصیات کے راستے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے حضرت علیؑ کے وصیت نامے کے چند جملے نقل کرتے ہوئے کہا کہ ہم حضرت علیؑ کی ولادت کو، ایسا دن جو مردانگی کی علامت ہے اور اسی مقدس دن سے ہم آہنگ ہے، بڑے احترام سے یاد کرتے ہیں، ان کے وصیت نامے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے، سردار سلیمانی اور ان جیسے لوگ کبھی دنیا کے طالب نہیں تھے اور دنیا سے جو کچھ بھی ہاتھ سے جاتا، اس پر ذرّہ برابر افسوس نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سردار سلیمانی اپنی اسی صفت کے باعث ہمیشہ حق کہتے اور حق کا دفاع کرتے تھے، وہ ظالم کے دشمن اور ہر جگہ، چاہے ملک کے اندر ہو یا باہر، مظلوم کے مددگار تھے، یہی وہ اصول ہیں جن پر ہمارے امام نے زور دیا تھا، اور ہم نے سردارِ عزیز کے کردار میں ان اصولوں کو عملی صورت میں دیکھا، وہ سب کے لیے ایک واضح اور زندہ نمونہ تھے۔
پزشکیان نے کہا کہ سردار سلیمانی مظلوم کے حامی تھے، اور یہ حمایت صرف جنگ کے میدان تک محدود نہیں تھی، جہاں بھی ان کی ضرورت پڑی، وہ بے لوث، بے نام و نمود میدان میں اترے۔ اسی وجہ سے وہ پوری دنیا میں ایک دائمی نمونہ بن گئے، یہاں تک کہ ایران سے باہر، بلکہ امریکہ کے اندر بھی ان کی شہادت پر یادگاری تقاریب منعقد ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نمایاں صفات سردار سلیمانی کو ہم سب کے لیے ایک اخلاقی نمونہ بناتی ہیں، کیونکہ وہ کسی جماعت، گروہ یا سیاسی دھڑے سے وابستہ نہیں تھے۔ کوئی بھی پارٹی انہیں اپنے نام سے منسوب نہیں کر سکتی تھی، کیونکہ وہ اپنے امام کے راستے پر، اپنے رہبر کے تابع اور بغیر کسی دعوے کے ہر میدان میں حاضر تھے، چاہے ایران کا دفاع ہو، اسلامی ممالک کا، مسلمانوں کا یا مظلوموں کا۔ انہوں نے نہج البلاغہ کے خطبہ 108 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج سرحدوں کے باہر سے ایسے پرچم بلند کیے جا رہے ہیں جو ان معاشروں میں گمراہی پھیلانا چاہتے ہیں جو استقامت دکھا رہے ہیں، یہی استقامت دشمنوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ان معاشروں میں فتنہ اور گمراہی کو فروغ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس خطبے میں واضح کیا گیا ہے کہ ظالم معاشرے سے اہلِ ایمان، اہلِ علم اور باخبر افراد کو اس طرح الگ کر دیتے ہیں جیسے بیجوں میں سے صحت مند دانے چن لیے جائیں۔ آج یہی کام صہیونی رجیم اور امریکہ دنیا میں تہذیب، جمہوریت اور آزادی کے نام پر کر رہے ہیں، یہ طرزِ عمل ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال ہے، کیونکہ حکومتوں کی طاقت کے سہارے باصلاحیت انسانوں، اسلامی معاشروں کے دانشوروں اور آزادی پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقی چہرہ ہے جو فریب دہ نعروں کے پیچھے چھپا ہوا ظلم ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ہمارے درمیان سے مؤثر شخصیات کو چن کر ختم کرتے ہیں، سردار سلیمانی، ابو مہدی المهندس اور اس راستے میں شہید ہونے والے تمام افراد، چاہے وہ علماء ہوں، اساتذہ ہوں، کمانڈر ہوں یا دینی رہنما، انہیں جھوٹے القابات کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جبکہ اصل مجرم یہی جھوٹے دعویدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری قوت کے ساتھ اس راستے کو جاری رکھیں گے، کیونکہ سردار سلیمانی اتحاد اور ہم دلی کا نمونہ تھے، ان کے لیے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کوئی کرد ہو، بلوچ ہو، عرب ہو یا عجم، وہ مظلوم کے حامی اور رہبری و ولایت کے تابع تھے، اور جہاں بھی ان کی ضرورت ہوتی، فوراً حاضر ہوتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ خصوصیات نوجوانوں، اس سرزمین کے عوام اور پورے خطے کے لیے ایک زندہ، روشن اور پائیدار نمونہ ہیں۔ میں ہر انداز سے اس بات پر زور دیتا ہوں کہ تمام ایرانی، تمام آزادی پسند اور تمام حق و مظلوم کے حامی، اس عظیم شخصیت کو اپنے لیے نمونہ بنائیں اور اس راستے کو رکنے نہ دیں۔ پزشکیان نے کہا کہ ہم اس راستے پر یقین رکھتے ہیں، اس پر چل چکے ہیں اور آئندہ بھی چلتے رہیں گے، آج بھی حکومت میں ہم اسی راستے پر گامزن ہیں اور پوری طاقت سے ظالموں اور جابروں کے مقابل کھڑے ہیں، آج حکومت میں جن افراد کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں، ان کا انتخاب کسی جماعت، گروہ یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں ہوا، بلکہ ماہرین کی رائے، اجتماعی مشاورت اور فنی صلاحیت کی بنیاد پر ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی وزیر محض دوستی یا سیاسی وابستگی کی وجہ سے نہیں آیا، اب ہم سب کو مل کر ملک کے مسائل کے حل اور مظلوموں کے عملی دفاع کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ، رشوت اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف نہ صرف ہمارے پاس منصوبہ ہے بلکہ ہم ان کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں، اگرچہ یہ راستہ آسان نہیں اور ہمیں شدید دباؤ اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، حکومت کا فیصلہ ہے کہ سبسڈی کو زنجیر کے آغاز سے اختتام تک منتقل کیا جائے اور براہِ راست ہر ایرانی شہری کے اکاؤنٹ میں ڈالا جائے، اس سے ان لوگوں کے مفادات ختم ہوں گے جو ناجائز رینٹ اور ترجیحی کرنسی سے فائدہ اٹھاتے تھے، اور فطری طور پر وہ ناراض ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سبسڈی ختم نہیں کریں گے بلکہ اسے منصفانہ انداز میں تقسیم کریں گے۔ یہی حقیقی عدل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمام مشکلات اور بھاری ذمہ داریوں کے باوجود، ہم پوری قوت کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہیں گے، ہمیں یقین ہے کہ سردار سلیمانی کا دکھایا ہوا راستہ ہمیں ظالم، جابر اور نسل کش طاقتوں کے مقابل مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس راستے کے لیے اتحاد، یکجہتی اور رہبرِ معظم انقلاب کی پیروی ضروری ہے، ہم خود کو اس بات کا پابند سمجھتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں کو معاشرے میں نافذ کریں، کیونکہ تفرقہ، جھوٹ اور باہمی تخریب اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
پزشکیان نے کہا کہ ہم ملک کے تمام ذمہ داران کا بھرپور دفاع کرتے ہیں اور دل و جان سے مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں گے، کیونکہ یہ ذمہ داری ہمارے لیے غنیمت نہیں بلکہ ایک بھاری امانت ہے۔ ہم قربانی کے لیے تیار ہیں اور شہادت سے نہیں ڈرتے، کیونکہ سردار سلیمانی اور امام حسینؑ کی شہادت نے ثابت کیا کہ شہادت راستے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ہمیشہ زندہ اور الہام بخش بنا دیتی ہے، ظالم دشمن یہ نہ سمجھیں کہ شہادت کی دھمکی دے کر اس قوم کو روکا جا سکتا ہے، ہم اللہ پر توکل، اتحاد اور ہم دلی کے ساتھ اس راستے کو آخر تک جاری رکھیں گے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان عظیم شخصیات کو اپنی رحمت میں جگہ دے اور ہمیں بھی اسی راستے پر ثابت قدم رکھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے مزید کہا کہ کہ سردار سلیمانی انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل پزشکیان نے اور مظلوم نمونہ تھے اس بات پر کرتے ہیں مظلوم کے اس راستے راستے پر کے راستے راستے کو کے ساتھ نہیں کر میں ایک ہیں اور کے لیے اور ہم تھا کہ ہیں کہ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔