کھپرو میونسپل کمیٹی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-05-7
کھپرو (نمائندہ جسارت) کھپرو میونسپل کمیٹی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے کھپرو میونسپل کمیٹی شہر کی صفائی ستھرائی کرنے میں ناکام رہی میونسپل کمیٹی کو معتدد بار شکایات کرنے کے بعد بھی ازالہ نہ کیا شہری ۔تفصیلات کے مطابق غریب آباد محلہ میں کئی ماہ سے گٹر نالیاں پلٹ رہی ہے گٹر پائپ لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کی وجہ علاقہ مکین دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہاں تک جانے والے نمازی قریب مسجد میں جانے کے لئے بھی پریشان ہے ۔ کھپرو میونسپل کمیٹی چیئرمین کو کئی بار شکایات کی ٹیم آتی ضرور ہے مگر عملی کام نہیں کرتی پھر اگلے روز وہ ہی مسائل ہیں 20 سال بعد ترقیاتی کام شروع ہوئے غریب آباد محلہ کی گلی بنائی گئی مگر آج حالت یہ ہے کہ چلنے کا راستہ بھی میسر نہیں۔ علاقہ مکین پریشان ہیں کل سے اسکول کی تعطیل بھی ختم ہو رہی ہے اسکول کے بچے بچیاں خواتین اساتذہ سب پریشان ہوں گے۔ شہریوں نے ایم این اے شازیہ مری، ایم پی علی حسن ہنگورجو میونسپل چیئر مین امتیاز حسن درس سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے اور صفائی ستھرائی کو یقینی اور میسر بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔