اسلام ٹائمز: خطے کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن نے سیاسی سطح پر مداخلت کی تاکہ اپنے اتحادیوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔ گزشتہ برسوں میں سعودی-اماراتی محور، امریکہ اور اسرائیل کی عرب دنیا میں پالیسیوں کے نفاذ کا اہم محرک رہا ہے، جس کا مرکز مزاحمتی محاذ کا مقابلہ رہا ہے۔ اب یہی دونوں ممالک یمن، سوڈان اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانی مراکز میں اثر و رسوخ کی تقسیم پر اختلافات کے باعث ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں، اور یہ صورتحال امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

امریکی وزیر خارجہ نے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں سے یمن کے معاملے پر بات چیت کی اور انصار اللہ کے خلاف متحدہ محاذ برقرار رکھنے پر زور دیا۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور ریاض و ابوظبی کے مابین غیر معمولی بیانات کے اجراء کے ساتھ ہی، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ اگرچہ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس رابطے کی خبر میں یمن کا ذکر نہیں کیا اور صرف اتنا کہا کہ فریقین نے علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا، تاہم امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق روبیو نے فیصل بن فرحان سے گفتگو کے دوران یمن کی صورتحال پر بات کی۔

اس کے برعکس اماراتی ذرائع نے یمن کو اس مشاورت کا مرکزی نکتہ قرار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ اماراتی خبر رساں ایجنسی وام نے لکھا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ سے لے کر یمن تک مختلف اسٹریٹجک امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ اگرچہ ان بات چیت میں یمن کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادیوں سے کیے جانے والے مخصوص مطالبات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اس سے قبل یمن میں امریکی سفیر اسٹیو فاگن اپنے بیانات میں اس نکتے کی وضاحت کر چکے تھے۔ امریکی سفیر نے سعودی حمایت یافتہ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ سمیت یمنی حکام سے ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا تھا کہ تمام فریقین کو انصار اللہ کے مقابلے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ فاگن نے صدارتی کونسل کے سربراہ کو بھی تاکید کی تھی کہ انصاراللہ کے خلاف محاذ پر اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن جنوبی یمن میں جاری داخلی تصادم سے خوش نہیں ہے۔ اس کے باوجود، سعودی عرب اور امارات نے امریکی سفیر کے مؤقف کو نظر انداز کرتے ہوئے چکن گیم کھیلنا جاری رکھا، اور بالآخر معاملہ فوجی تصادم تک جا پہنچا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران سعودی عرب نے حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کے ٹھکانوں پر بمباری کے علاوہ مکلا بندرگاہ پر امارات کی فوجی امدادی کشتی کو بھی نشانہ بنایا، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ریاض ابوظبی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب نے غیر معمولی بیانات جاری کرتے ہوئے یمن میں جنوبی عبوری کونسل اور علیحدگی پسندوں کی اماراتی حمایت پر شدید تنقید کی اور امارات کے حمایت یافتہ عناصر کے انخلا کا مطالبہ کیا۔ اس کے جواب میں، امارات کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان میں ریاض کے اقدامات پر تنقید کی۔

دوسری جانب اماراتی وزارت دفاع نے بھی ایک بیان میں یمن میں دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کے خاتمے کا اعلان کیا۔ بالآخر، گزشتہ مہینے کے آغاز میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں سے جنوبی عبوری کونسل کی پسپائی سے متعلق خبروں کے بعد یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امارات نے کسی حد تک پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، سعودی عرب اور امارات کے تعلقات میں پیدا ہونے والی یہ بے مثال کشیدگی خلیج تعاون کونسل (GCC) کے قیام کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین صورتِ حال سمجھی جا رہی ہے، حالانکہ یہ کونسل بنیادی طور پر ایران کے مقابلے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ اس کونسل اور ان دونوں عرب ممالک کے اتحاد میں دراڑ، ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جاتی ہے۔

خطے کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن نے سیاسی سطح پر مداخلت کی تاکہ اپنے اتحادیوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔ گزشتہ برسوں میں سعودی-اماراتی محور، امریکہ اور اسرائیل کی عرب دنیا میں پالیسیوں کے نفاذ کا اہم محرک رہا ہے، جس کا مرکز مزاحمتی محاذ کا مقابلہ رہا ہے۔ اب یہی دونوں ممالک یمن، سوڈان اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانی مراکز میں اثر و رسوخ کی تقسیم پر اختلافات کے باعث ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں، اور یہ صورتحال امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور امارات کے خلاف رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار