افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقلابِ امامت
نبی کریمؐ کی اسلامی تحریک دراصل اس تحریک کی تکمیل کر رہی تھی، جسے ابراہیم علیہ السلام نے برپا کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا تھا۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستانِ عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری (یعنی اسلام) کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ پھر اپنے اس مشن کی اشاعت کے لیے مختلف علاقوں میں خلیفے مقرر کیے۔ شرقی اُردن میں اپنے بھتیجے لُوطؑ کو، شام و فلسطین میں اپنے بیٹے حضرت اسحاقؑ کو اور اندرونِ عرب میں اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو مامور کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ میں وہ گھر تعمیر کیا، جس کا نام کعبہ ہے اور اللہ ہی کے حکم سے وہ اس مشن کا مرکز قرار پایا۔
٭—٭—٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے دو بڑی شاخیں نکلیں۔ ایک حضرت اسماعیلؑ کی اولاد، جو عرب میں رہی اور عرب کے بعض دوسرے قبائل کا تعلق اسی شاخ سے تھا اور جو عرب قبیلے نسلاً حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد نہ تھے وہ بھی چونکہ ان کے پھیلائے ہوئے مذہب سے کم و بیش متاثر تھے۔ اس لیے وہ اپنا سلسلہ انہیں سے جوڑتے تھے۔ دوسرے حضرت اسحاق کی اولاد، جن میں حضرت یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ اور بہت سے انبیاء علیہم السلام پیدا ہوئے اور چونکہ حضرت یعقوب کا نام اسرائیل تھا اس لییے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ ان کی تبلیغ سے جن دوسری قوموں نے ان کا دین قبول کیا۔ انہوں نے یا تو اپنی انفرادیت ہی ان کے اندر گم کر دی یا وہ نسلاً تو ان سے الگ رہے مگر مذہباً ان کے متبع رہے۔ اسی شاخ میں جب پستی و تنزل کا دور آیا تو پہلے یہودیت پیدا ہوئی پھر عیسائیت نے جنم لیا۔
٭—٭—٭
حضرت ابراہیمؑ کا اصل کام دنیا کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام درست کرنا تھا۔ وہ خود اللہ کے مطیع تھے۔ اس کے دیے ہوئے علم کی پیروی کرتے تھے، دنیا میں اس کا علم پھیلاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ سب انسان مالک کائنات کے مطیع ہو کر رہیں۔ یہی خدمت تھی جس کے لیے وہ دنیا کے امام و پیشوا بنائے گئے تھے، ان کے بعد امامت کا یہ منصب ان کی نسل کی اس شاخ کو ملا، جو حضرت یعقوب اور حضرت اسحاق سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ اسی میں انبیا پیدا ہوتے رہے اسی کو راہ راست کا علم دیا گیا، اسی کے سپرد یہ خدمت کی گئی کہ اس راہِ راست کی طرف اقوامِ عالم کی رہنمائی کرے اور یہی وہ نعمت تھی جسے بار بار اس نسل کے لوگوں کو یاد دلایا جاتا ہے۔ اس شاخ نے حضرت سلیمان کے زمانے میں بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیا اس لیے جب تک یہ شاخ امامت کے منصب پر قائم رہی۔ بیت المقدس ہی دعوتِ الی اللہ کا مرکز اور خدا پرستوں کا قبلہ رہا۔
٭—٭—٭
بنی اسرائیل نے اس نعمت کی انتہائی ناقدری کی۔ ان کا حال یہ ہو گیا کہ نہ صرف یہ کہ انہوں نے منصبِ امامت کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا۔ بلکہ خود بھی حق اور راستی سے پھر گئے اور ایک صالح عنصر کے علاوہ پوری امت میں کوئی صلاحیت باقی نہ رہی۔ نبی اکرمؐ کی بعثت اس امر کا اعلان تھی کہ امامت ابراہیم کے نطفے کی میراث نہیں ہے۔ یہ حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے عطا ہوئی کہ انہوں نے سچی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی ہستی کو گم کر دیا تھا۔ یہ امامت ان لوگوں کا حق ہے جو ابراہیمؑ کے طریقے پر خود چلیں اور دنیا کو اس طریقے پر چلانے کی خدمت انجام دیں، بنی اسرائیل اس رستے سے ہٹ گئے تھے اور اس خدمت کی اہلیت پوری طرح کھو چکے تھے لہٰذا انہیں امامت کے منصب سے معزول کر دیا گیا اور اعلان کر دیا گیا کہ امامت کی مستحق وہ امت ہے، جو اب اِس رسولؐ کی پیروی کرے۔ اس لیے کہ رسولؐ کا طریقہ وہی ہے، جو ابراہیم، اسماعیل، اسحٰق، یعقوب اور دوسرے انبیا علیہم السلام کا تھا۔ وہ اور اس کے پیرو ساری دنیا کو اسی راستے کی طرف بلاتے ہیں جس کی طرف سارے انبیا دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حضرت ابراہیم بنی اسرائیل انہوں نے کی طرف اس لیے
پڑھیں:
حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔ جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی