Jasarat News:
2026-06-02@22:23:25 GMT

رسول اللہ ﷺ کا تبسّم

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا میں ہزاروں پیغمبر آئے۔ انھوں نے اللہ کے بندوں تک اس کا پیغام پہنچایا اور اپنی زندگی کا عملی نمونہ پیش کیا، مگر کچھ عرصے کے بعد ان کی تعلیمات مٹ گئیں، یا ان میں بہت سی غلط باتوں کی آمیزش ہوگئی اور ان کی زندگی پر پردہ پڑ گیا۔ یہ امتیاز صرف خاتم النبیین سیدنا محمدؐ کو حاصل ہے کہ آپ کا لایا ہوا پیغام قرآن مجید کی شکل میں حرف بہ حرف محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔ اسی طرح آپؐ کی حیات طیبہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آپ کی ولادت سے اور خاص طور پر نبوت سے وفات تک کے تمام واقعات، تمام جزئیات کے ساتھ معلوم ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے آپ کی زندگی کے معمولی معمولی واقعات، آپ کے روز مرہ کے معمولات اور طبعی اوصاف کو بھی بیان کیا ہے۔ آپ کی خلوت و جلوت، نشست و برخاست، آمد و رفت، سفر و حضر، خواب و بیداری، بول چال، کھانا پینا، چلنا پھرنا، پہننا اوڑھنا، غرض آپ کی زندگی کا کوئی پہلو پردہ میں نہیں ہے۔

رسولؐ کی نجی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے متعلقین اور اصحاب کے ساتھ لطف و کرم، محبت و مؤدت اور نرمی کا برتاؤ کرتے تھے۔ آپ کے مزاج میں درشتی اور سختی نام کو نہ تھی۔ قرآن نے آپؐ کے اس وصف کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے:
اے پیغمبرؐ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردو پیش سے چھٹ جاتے (آل عمران: 159)۔
آپؐ ملنے والوں سے خندہ پیشانی سے پیش آتے، ان سے مسکرا کر بات چیت کرتے، ان کی ظریفانہ مجلسوں میں شریک ہوتے، بسا اوقات ان سے لطیف مزاح بھی فرماتے۔ آپؐ کا یہ برتاؤ تمام طبقات کے ساتھ تھا، اندرون خانہ ازواج مطہرات ہوں یا بچے، آپؐ کے قریبی اصحاب ہوں یا اجنبی، سب آپؐ کے بحر الطاف و عنایات سے فیض یاب ہوتے تھے۔ سیرت نبویؐ کا یہ ایک ایسا باب ہے جس سے آپ کی نجی زندگی کے ایک اہم پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔

آنحضرتؐ کے قریبی اصحاب کا بیان ہے کہ آپؐ کے روئے اطہر پر ہمیشہ مسکراہٹ اٹکھیلیاں کرتی رہتی تھی۔ عبداللہ بن حارثؓ فرماتے ہیں:
میں نے رسولؐ سے زیادہ کسی شخص کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا (شمائل ترمذی، باب ماجاء فی ضحک رسول اللہ)۔
ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسولؐ کو ٹھٹھا مارکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپؐ صرف تبسم فرماتے تھے (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب التبسم والضحک)۔
احادیث میں ’ضحک‘ (ہنسنا) اور ’تبسم‘ کے الفاظ ہیں، ’ضحک‘ چہرے کے انبساط کو کہتے ہیں، جس سے دانت نظر آجائیں اور منہ سے ہلکی آواز نکلے۔ اگر آواز زور سے نکلے اور دور تک سنائی دے تو اسے ’قہقہہ‘ اور بالکل نہ نکلے تو اسے ’تبسم‘ کہتے ہیں ( فتح الباری شرح صحیح بخاری، ابن حجر عسقلانی)۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولؐ بیش تر حالات میں صرف تبسم فرماتے تھے۔ بعض خاص مواقع پر آپ سے ضحک بھی ثابت ہے۔ بلکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کسی بات پر اتنی زور سے ہنسے کہ آپ کے نواجذ (داڑھ) دکھائی دیے، لیکن ایسا بہت کم ہوا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ صحابہ کو زیادہ ہنسنے سے منع فرماتے تھے۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’زیادہ نہ ہنسو، زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے‘‘ (جامع ترمذی، ابواب الزھد)۔
آنحضرتؐ ازواج مطہرات کے ساتھ لطف و کرم اور محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔ آپؐ ان کے ساتھ خوش طبعی فرماتے اور ان کے درمیان مسرت کے موتی بکھیرتے تھے۔ کبھی کوئی ہنسی کی بات آتی تو بے ساختہ مسکرادیتے تھے۔

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبیؐ کے ساتھ سفر میں تھی، اس وقت تک میں ہلکی پھلکی تھی، فربہ بدن نہیں ہوئی تھی۔ آپؐ نے لوگوں کو آگے بڑھ جانے کی ہدایت کی، پھر مجھ سے فرمایا: آؤ دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ میں آپؐ کے ساتھ دوڑی اور آگے نکل گئی۔ آپؐ خاموش ہوگئے۔ کچھ عرصے کے بعد ایک مرتبہ پھر مجھے آپ کے ساتھ سفر میں جانے کا موقع ملا، اس وقت میں فربہ بدن ہوگئی تھی۔ آپؐ نے اس موقع پر بھی اپنے اصحاب کو آگے بڑھ جانے کا حکم دیا، پھر مجھ سے فرمایا: آؤ دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ میں آپ کے ساتھ دوڑی تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے۔ آپ ہنسنے لگے اور فرمایا: یہ اُس دن کا بدلہ ہے (مسند احمد)۔
سیدہ عائشہؓ ایک دوسرا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبیؐ کی خدمت میں حریرہ (یعنی دودھ، گھی اور آٹے سے تیار کیا ہوا کھانا) لے کر آئی، جسے میں نے خود آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ وہاں سیدہ سودہؓ بھی تھیں، نبیؐ میرے اور ان کے درمیان تھے۔ میں نے سودہؓ سے کہا: کھاؤ۔ انھوں نے انکار کیا۔ میں نے کہا: کھاؤ، ورنہ تمھارے چہرے پر لتھیڑدوں گی۔ انھوں نے پھر بھی انکار کیا۔ میں نے حریرہ میں اپنا ہاتھ ڈالا اور ان کے چہرہ پر لیس دیا۔ نبیؐ ہنسنے لگے۔ آپؐ نے سودہؓ سے فرمایا: اس کے بھی چہرے پر لتھیڑدو (دوسری روایت میں سیدہ عائشہؓ کا بیان یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنا گھٹنا نیچے کرلیا، تاکہ سودہؓ مجھ سے بدلہ لے سکیں)۔ چنانچہ انھوں نے بھی پلیٹ سے کچھ لے کر میرے چہرے پر لیس دیا اور رسول اللہؐ ہنستے رہے (مجمع الزوائد، ہیثمی)۔

آپؐ کی خوش طبعی اور خندہ روئی کا یہ معاملہ بچوں کے ساتھ بھی تھا۔ آپؐ ان کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے، ان سے پیار بھری باتیں کرتے اور کبھی کبھی لطیف مزاح بھی فرماتے۔
سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہؓ کا ایک بچہ تھا، جس کا نام ابوعمیرؓ تھا، آنحضرتؐ جب بھی ابوطلحہؓ کے گھر تشریف لے جاتے، اس بچے سے ہنسی مذاق کرتے تھے (مسند احمد)۔
ایک مرتبہ بعض لوگوں نے آپؐ کو کھانے کی دعوت دی آپؐ ان کے یہاں جارہے تھے۔ راستے میں آپؐ کے نواسے (سیدنا حسنؓ یا سیدنا حسینؓ) بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ملے۔ آپؐ نے انھیں پکڑنا چاہا۔ وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ آپؐ ہنستے ہوئے انھیں پکڑنے کی کوشش کرنے لگے، یہاں تک کہ پکڑلیا۔ پھر اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی پر اور دوسرا ان کی ٹھوڑی پر رکھا اور اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر بوسہ لے لیا (ایضاً)۔

مولانا صادق محی الدین گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انھوں نے ہے کہ ا پ کے ساتھ اور ان

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید