Islam Times:
2026-07-24@03:04:48 GMT

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی لڑائی میں امریکی کردار

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی لڑائی میں امریکی کردار

اسلام ٹائمز: حالیہ برسوں میں، سعودی اماراتی بلاک عرب دنیا میں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے محرک رہا ہے، جسکا اصل مقصد مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنا ہے۔ بہرحال اس وقت دونوں ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن اور سوڈان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے نیز مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل پر متضاد موقف رکھتے ہیں، جس سے سب سے زیادہ امریکہ کے اسٹریٹیجک مفادات کو خطرہ پہنچ رہا ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں کے ساتھ یمن پر تبادلہ خیال کیا اور انصار اللہ کے خلاف متحدہ محاذ برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ایک ایسے وقت، جب یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ابوظہبی اور ریاض کے درمیان تند و تیز بیانات جاری کیے گئے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید سے الگ الگ فون پر بات کی۔ اگرچہ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس گفتگو کے بارے میں اپنی رپورٹ میں یمن کا ذکر نہیں کیا اور صرف اتنا کہا کہ فریقین نے علاقائی مسائل پر بات چیت کی، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق روبیو نے فرحان کے ساتھ اپنی گفتگو میں یمن میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

البتہ اماراتیوں نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنے وزیر خارجہ کی مشاورت میں یمن کی مرکزیت کا ذکر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور خبر رساں ایجنسی WAM نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ سے یمن تک متعدد اسٹریٹیجک مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اگرچہ مذاکرات میں یمن کے حوالے سے اپنے اتحادیوں سے امریکی مطالبے کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس سے قبل اس ملک کے سفیر سٹیو فیگن نے اپنے بیانات میں اس کا ذکر کیا تھا۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ سمیت یمنی حکام کے ساتھ ملاقات میں امریکی سفیر نے واضح کیا تھا کہ فریقین کو انصار اللہ کا مقابلہ کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔

کونسل کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں فاگین نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ انصار اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن جنوبی یمن میں جاری محاذ آرائی سے خوش نہیں ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اپنے حالیہ تصادم میں امریکی سفیر کے مشورے پر توجہ نہیں دی اور بالآخر معاملات فوجی تصادم کی طرف بڑھ گئے۔ حضرموت میں عبوری کونسل کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کے علاوہ، سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے مکلا کی بندرگاہ میں متحدہ عرب امارات کے فوجی امدادی جہاز پر بمباری کی، تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ ابوظہبی کے ساتھ فیصلہ کن طور پر نمٹے گا۔ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی عبوری کونسل اور یمن میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی پالیسی کو بھی بے مثال بیانات کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنایا اور اماراتی حمایت یافتہ افواج کو ان کے ٹھکانوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں ریاض کے اقدامات پر تنقید کی اور اس ملک کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے یمن میں دہشت گردی کے میدان میں سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون ختم کر دیا ہے۔ تاہم، اس خبر کے بعد کہ عبوری کونسل کی افواج گذشتہ ماہ کے آغاز میں سعودی حمایت یافتہ افواج کے زیر کنٹرول علاقوں سے انخلاء کرچکی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات پیچھے ہٹ گیا ہے۔ تاہم خلیج تعاون کونسل کے قیام کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں یہ بے مثال صورتحال تھی اور یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ یہ کونسل اصل میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

اس کونسل میں اختلافات اور خلیج ان دونوں عرب ممالک کے اتحاد کو ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی میں خلل سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کی پیچیدہ صورتحال میں واشنگٹن نے اپنے اتحادیوں کے درمیان دراڑ کو شدت سے روکنے کے لیے سیاسی مداخلت کی ہے۔ حالیہ برسوں میں، سعودی اماراتی بلاک عرب دنیا میں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے محرک رہا ہے، جس کا اصل مقصد مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنا ہے۔ بہرحال اس وقت دونوں ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن اور سوڈان میں اپنا اثر و رسوخ  بڑھانے نیز مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل پر متضاد موقف رکھتے ہیں، جس سے سب سے زیادہ امریکہ کے اسٹریٹیجک مفادات کو خطرہ پہنچ رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے میں امریکی کا مقابلہ کونسل کے کے ساتھ نے اپنے کا ذکر رہا ہے کی اور

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل