Islam Times:
2026-06-03@07:06:02 GMT

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی لڑائی میں امریکی کردار

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی لڑائی میں امریکی کردار

اسلام ٹائمز: حالیہ برسوں میں، سعودی اماراتی بلاک عرب دنیا میں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے محرک رہا ہے، جسکا اصل مقصد مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنا ہے۔ بہرحال اس وقت دونوں ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن اور سوڈان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے نیز مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل پر متضاد موقف رکھتے ہیں، جس سے سب سے زیادہ امریکہ کے اسٹریٹیجک مفادات کو خطرہ پہنچ رہا ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں کے ساتھ یمن پر تبادلہ خیال کیا اور انصار اللہ کے خلاف متحدہ محاذ برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ایک ایسے وقت، جب یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ابوظہبی اور ریاض کے درمیان تند و تیز بیانات جاری کیے گئے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید سے الگ الگ فون پر بات کی۔ اگرچہ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس گفتگو کے بارے میں اپنی رپورٹ میں یمن کا ذکر نہیں کیا اور صرف اتنا کہا کہ فریقین نے علاقائی مسائل پر بات چیت کی، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق روبیو نے فرحان کے ساتھ اپنی گفتگو میں یمن میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

البتہ اماراتیوں نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنے وزیر خارجہ کی مشاورت میں یمن کی مرکزیت کا ذکر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور خبر رساں ایجنسی WAM نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ سے یمن تک متعدد اسٹریٹیجک مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اگرچہ مذاکرات میں یمن کے حوالے سے اپنے اتحادیوں سے امریکی مطالبے کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس سے قبل اس ملک کے سفیر سٹیو فیگن نے اپنے بیانات میں اس کا ذکر کیا تھا۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ سمیت یمنی حکام کے ساتھ ملاقات میں امریکی سفیر نے واضح کیا تھا کہ فریقین کو انصار اللہ کا مقابلہ کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔

کونسل کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں فاگین نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ انصار اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن جنوبی یمن میں جاری محاذ آرائی سے خوش نہیں ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اپنے حالیہ تصادم میں امریکی سفیر کے مشورے پر توجہ نہیں دی اور بالآخر معاملات فوجی تصادم کی طرف بڑھ گئے۔ حضرموت میں عبوری کونسل کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کے علاوہ، سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے مکلا کی بندرگاہ میں متحدہ عرب امارات کے فوجی امدادی جہاز پر بمباری کی، تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ ابوظہبی کے ساتھ فیصلہ کن طور پر نمٹے گا۔ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی عبوری کونسل اور یمن میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی پالیسی کو بھی بے مثال بیانات کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنایا اور اماراتی حمایت یافتہ افواج کو ان کے ٹھکانوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں ریاض کے اقدامات پر تنقید کی اور اس ملک کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے یمن میں دہشت گردی کے میدان میں سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون ختم کر دیا ہے۔ تاہم، اس خبر کے بعد کہ عبوری کونسل کی افواج گذشتہ ماہ کے آغاز میں سعودی حمایت یافتہ افواج کے زیر کنٹرول علاقوں سے انخلاء کرچکی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات پیچھے ہٹ گیا ہے۔ تاہم خلیج تعاون کونسل کے قیام کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں یہ بے مثال صورتحال تھی اور یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ یہ کونسل اصل میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

اس کونسل میں اختلافات اور خلیج ان دونوں عرب ممالک کے اتحاد کو ایران کے خلاف امریکی حکمت عملی میں خلل سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کی پیچیدہ صورتحال میں واشنگٹن نے اپنے اتحادیوں کے درمیان دراڑ کو شدت سے روکنے کے لیے سیاسی مداخلت کی ہے۔ حالیہ برسوں میں، سعودی اماراتی بلاک عرب دنیا میں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے محرک رہا ہے، جس کا اصل مقصد مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنا ہے۔ بہرحال اس وقت دونوں ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن اور سوڈان میں اپنا اثر و رسوخ  بڑھانے نیز مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل پر متضاد موقف رکھتے ہیں، جس سے سب سے زیادہ امریکہ کے اسٹریٹیجک مفادات کو خطرہ پہنچ رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے میں امریکی کا مقابلہ کونسل کے کے ساتھ نے اپنے کا ذکر رہا ہے کی اور

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے