پلواما حملہ غیرملکی نہیں بی جے پی کی سازش کا حصہ تھا‘ بھارتی رہنما
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سیاستدان اور سماج وادی پارٹی کے رہنما سنتان پانڈے نے مودی سرکار کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 2019ء پلواما حملہ غیر ملکی نہیں بلکہ بی جے پی کی سازش کا حصہ تھا، بی جے پی نے جھوٹ چھپانے کے لیے پلواما کی سازش کا ڈھونگ رچایا، بی جے پی آج تک نہ بتاسکی کہ حملے میں استعمال ہوا آرڈی ایکس کہاں سے آیا، بغیر تحقیقات اور ثبوت کے پاکستان پر الزام لگانا مودی حکومت کی عادت بن گئی ہے۔سماج وادی پارٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ بمبئی اورپلواما حملے، سمجھوتا ایکسپریس اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز کیے گئے، ایسے فالس فلیگ آپریشنز مودی حکومت کے مذموم مقاصد کے حصول کا پرانا طریقہ ہے۔یاد رہے کہ مودی سرکار نے2019ء میں ہونے والے پلواما حملے اور پھر 2025ء میں ہونے والے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عاید کیا تاہم پاکستان کی جانب سے ہر بین الاقوامی فورم پر بھارت کے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کی سختی سے نہ صرف تردید کی گئی بلکہ کہا گیا کہ اگر بھارتی حکومت شواہد فراہم کرے تو پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے تاہم بھارت کی ہندو انتہا پسند سرکار آج تک ان حملوں سے متعلق کوئی ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کرسکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بی جے پی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔