مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی سرکار کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کو جرم بنا دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ حال ہی میں منعقد ہونے والے مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ کے دوران پیش آیا۔

جہاں فرقان بھٹی نامی کرکٹر جب کے سی اسپورٹس کلب میں میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اترا تو اس کے ہیلمٹ پر فلسطینی پرچم کا اسٹیکر چسپاں تھا۔

جس پر ہندوتوا کے جنونیوں اور مودی سرکار کے چہیتوں نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور بے بنیاد الزمات عائد لگائے۔

بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ پراوین کھنڈیلوال نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر کوئی بھارت میں رہتا ہے تو اسے بھارتی پرچم کی پاسداری کرنی چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی پرچم کے بجائے فلسطینی پرچم کو فخریہ اپنے ہیلمٹ پر لگانا ملک سے غداری کے مترادف ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی آشیرباد سے قائم کٹھ پتلی انتظامیہ کے حکم پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

ٹورنامنٹ کے منتظمین نے پولیس کو بتایا کہ انہیں میچ کے دوران اس اسٹیکر کا علم نہیں تھا اور نہ ہی کسی باقاعدہ اجازت کے تحت ایسا کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے فرقان بھٹ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ فلسطینی پرچم کے استعمال کے پیچھے کیا نیت یا مقصد تھا اور یہ کس جرم کے دائرے میں آتا ہے۔

ابھی پولیس کی تحقیقات جاری ہیں لیکن ٹورنامنٹ انتظامیہ نے فرقان بھٹی پر آئندہ لیگ میچز کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا حیران کن فیصلہ کیا ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی پرچم

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان