نیورک کے پہلے مسلم مئیر ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے شہر نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف اٹھا لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اٹارنی جنرل نیویارک لیٹیا جیم نے زہران ممدانی سے سٹی ہال نیویارک میں عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر زہران ممدانی کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔یاد رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ظہران ممدانی 4 نومبر 2025 ء کو ہونے والے میئر کے الیکشن میں 50 اعشاریہ 78 فیصد لے کر کامیابی حاصل کی تھی اور وہ نیویارک کے 112 ویں میئر منتخب ہوئے تھے۔ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں الیکشن سے قبل نسلی تعصب کا نشانہ بھی بنایا تھا تاہم الیکشن میں ریپبلکن امیدوار کی شکست کے بعد ٹرمپ نے نہ صرف ظہران ممدانی کو مبارکباد دی بلکہ ان کے ساتھ مل کر نیویارک کی بہتری کے لیے کام کرنے کا یقین بھی دلایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔