data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260102-08-19
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے مقابلے کیلیے درکار اسلحہ اور سہولیات نہ ملنے کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے صوبے کو اب افغان سرحد سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے گورنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق 18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا نے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا، نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا پرمشتمل وفد کی قیادت بریگیڈیئر بلال غفور کر رہے تھے۔ شرکا میں بلوچستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ اور فیکلٹی اراکین شامل تھے۔ ورکشاپ کے شرکا نے گورنر خیبرپختونخوا سے صوبے میں امن و امان، یونیورسٹیوں کے امور، تعلیمی شعبے کی ترقی اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلیے اقدامات، صوبے کے قدرتی وسائل سمیت مختلف موضوعات سے متعلق سوالات کیے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان افغان بارڈر کے ساتھ منسلک ہونے کے باعث امن و امان کے خطرات سے دوچار ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ملنے والے فنڈز سے خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کو نہیں بڑھایا گیا۔ بدقسمتی سے پختونخوا پولیس کو درکار اسلحہ اور سہولیات نہیں ملی ہیں، صوبے کے تمام سیاسی رہنما اپنے اپنے علاقوں میں بدامنی کی صورت حال سے پریشان ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بدقسمتی سے سیکورٹی اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جو افسوس ناک ہے، سیاسی لڑائی سیاسی دائرہ کار میں کرنی چاہیے۔ گورنر نے مزید کہا کہ صوبے میں تعلیمی شعبے پر سنجیدہ توجہ اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، صوبے کی 34 سرکاری یونیورسٹیوں کیلیے مالی سال کے بجٹ میں 4 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی، اگر یونیورسٹیوں کو درکار مطلوبہ فنڈز نہ ملیں تو تعلیمی نتائج کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں آئل اور گیس، بجلی کی پیداوار سے صوبے کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے، ہم مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید الجھا دیتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ہائیڈل پاور کے وسیع مواقع موجود ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، نوجوانوں نے ہی اپنی تعلیم اور مثبت سوچ و صلاحیتوں سے اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت