ٹرمپ انتظامیہ نے اطالوی پاستا پر مجوزہ بھاری ٹیرف واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
امریکا میں پاستا کے شوقین افراد کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آ گئی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے اٹلی سے درآمد ہونے والے پاستا پر عائد کیے گئے بھاری ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے اطالوی پاستا کی قیمتیں تقریباً دگنی ہونے سے بچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:50 فیصد ٹرمپ ٹیرف نافذ سے ہونے سے پہلے ہی بھارتی کاروباری طبقہ بدترین بحران سے دوچار
اطالوی حکومت کے مطابق امریکا نے اٹلی میں قائم پاستا کی متعدد معروف کمپنیوں پر عائد کیے گئے اضافی ٹیرف واپس لے لیے ہیں۔ امریکی محکمۂ تجارت نے 13 اطالوی پاستا برانڈز پر لگائے گئے محصولات میں کمی کرتے ہوئے پہلے اعلان کردہ سخت فیصلے کو نرم کر دیا ہے۔
Italy says US has sharply cut proposed pasta tariffs after a review https://t.
— Reuters (@Reuters) January 1, 2026
ابتدا میں ان برانڈز پر 92 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں بارِیلا، لا مولیسانا اور پاستیفیچو لوشیو گاروفالو شامل تھے، جس سے ان مصنوعات کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہونے کا خدشہ تھا۔
نئے فیصلے کے تحت اب لا مولیسانا پر 2.26 فیصد، گاروفالو پر 13.98 فیصد جبکہ دیگر 11 کمپنیوں پر تقریباً 9 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔ امریکی حکام کے ابتدائی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ اطالوی کمپنیاں امریکی پاستا ساز اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کر رہیں۔
The U.S. has stepped back from imposing trade-killing duties on Italian pasta makers https://t.co/sqyMk4O7lz
— The Wall Street Journal (@WSJ) January 1, 2026
اطالوی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ٹیرف میں نظرثانی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی حکام اطالوی کمپنیوں کے تعاون اور شفاف طرزِعمل کو تسلیم کر رہے ہیں۔
اطالوی کاروباری تنظیموں کے مطابق اگر یہ ٹیرف برقرار رہتے تو امریکا بھیجے جانے والے تقریباً نصف پاستا پر منفی اثر پڑتا۔ سال 2024 میں امریکا نے اٹلی سے تقریباً 788 ملین ڈالر مالیت کا پاستا درآمد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف برقرار، امریکی اپیلز کورٹ نے عارضی طور پر معطلی کا فیصلہ مؤخر کردیا
واضح رہے کہ 2025 کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے، تاہم کئی معاملات میں صارفین پر بڑھتے بوجھ کے خدشے کے باعث ان فیصلوں کو واپس یا نرم کر دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔