احمق بلکہ احمق تر کی یاوہ گوئیاں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھتا ہے تو ہاں، میں ایران پر حملے کی حمایت کروں گا۔ اور اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھیں تو حملہ فوری ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو متعدد بار بنیامین نیتن یاہو کے اقدامات کے باعث پیدا ہونے والے اخراجات اور بدنامی کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ادا کر چکا ہے اور جس کے نتیجے میں عالمی محافل میں واشنگٹن کی ساکھ مزید مجروح ہوئی ہے، ایک بار پھر صہیونی رجیم کے وزیرِاعظم سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف وہی پرانے دعوے اور لغو باتیں دہراتا نظر آیا۔ انہوں نے اپنی بیان بازی کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھتا ہے تو ہاں، میں ایران پر حملے کی حمایت کروں گا۔ اور اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھیں تو حملہ فوری ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروگرام کو جاری
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔