احمق بلکہ احمق تر کی یاوہ گوئیاں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھتا ہے تو ہاں، میں ایران پر حملے کی حمایت کروں گا۔ اور اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھیں تو حملہ فوری ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو متعدد بار بنیامین نیتن یاہو کے اقدامات کے باعث پیدا ہونے والے اخراجات اور بدنامی کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ادا کر چکا ہے اور جس کے نتیجے میں عالمی محافل میں واشنگٹن کی ساکھ مزید مجروح ہوئی ہے، ایک بار پھر صہیونی رجیم کے وزیرِاعظم سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف وہی پرانے دعوے اور لغو باتیں دہراتا نظر آیا۔ انہوں نے اپنی بیان بازی کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھتا ہے تو ہاں، میں ایران پر حملے کی حمایت کروں گا۔ اور اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھیں تو حملہ فوری ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروگرام کو جاری
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔