ملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات اور رابطے ہوئے تو سیاسی طور پر بہتر سمت بڑھ سکتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو افواج پاکستان اور ان کے سربراہان کے خلاف غلیط مہم فوری طور پر بند کردینی چاہیے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ جن اکاؤنٹس سے افواج پاکستان اور ان کے سربراہان کے خلاف ہونے والی انتہائی غلیظ مہم جوئی فوری طور پر بند کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت یہ کہہ کر جان چھڑانا چاہے کہ ہمارا ان پر کوئی کنٹرول نہیں اور ہمیں نہیں پتا یہ کون ہیں تو ایسا نہیں ہے بلکہ ان کا کنٹرول ہے، اگر براہ راست عمران خان یا ان کی طرف سے جو پیغام جاتا ہے اور اس کے مطابق ٹوئٹ ہوتا ہے اور باقی چیزیں ہوتی ہیں تو پی ٹی آئی کو ان اکاؤنٹس سے پوری طرح لاتعلقی کرنی چاہیے اور اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ اگر انہوں نے گالیاں نکالنی ہیں اور اس قسم کا پروپیگنڈا کرنا ہے تو یہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے خلاف کرتے رہیں لیکن افواج اور ان کے سربراہان کے خلاف نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ ہم افواج پاکستان کے خلاف تو بات نہیں کرتے، ہم تو کسی فرد سے متعلق بات کرتے ہیں تو نہیں ایسا نہیں ہے، اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ خدشات اور اثرات ویسے ہوں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ انہوں نے 8 فروری کی کال دی ہے میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ ناکامی ہوگی، یہ جو پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں کرسکیں گے اور اس کے پھر مزید نقصانات ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دن اگر اکادکا کہیں پہیہ جام کرنے کی کوشش کی تو وہ لوگ پھر ایسے دھر لیے جائیں گے کہ بعد میں پھر گلہ ہوگا کہ 9 مئی کی طرح سزا ہوگئی یہ ہوگیا وہ ہوگیا لہٰذا یہ کال واپس لیں۔
راناثنااللہ نے کہا کہ اس وقت ملک کے 5 بڑے ہیں، ان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں اور ان کے درمیان رابطہ ہونا چاہیے تو پھر سیاسی طور پر بہتر سمت بڑھ سکتے ہیں۔
وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، عمران خان اور پانچویں کا سب کو پتا ہے، ان کے درمیان جب تک اعتماد سازی نہیں ہوگی یا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہوگا، ایک دوسرے پر یقین نہیں ہوگا تو میرے اور عامر ڈوگر کی سطح پر ہم کوشش کرتے رہیں گے لیکن اس سے بریک تھرو نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ احتجاج کرنا آئین اور قانون کے اندر ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، کیا آج سے پہلے اس ملک میں پہیہ جام ہڑتالیں نہیں ہوئی، کیا احتجاج نہیں ہوئے، 75 برسوں سے اس ملک میں سیکڑوں پہیہ جام ہڑتالیں ہوئی ہیں، احتجاج ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان احتجاج کو سامنے رکھ کر ہمیں دوباہ 9 مئی یاد دلوائی جائے تو یہ مناسب بات نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن اگر ہم کسی سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں یا آئین اور قانون کو توڑیں یا اس کے خلاف کوئی اقدام کریں تو جو قانون کے مطابق سزا ہے ہمیں ضرور ملنی چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوم برگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کردی بلوم برگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کردی اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کیلئے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی اسلام آباد میں ترقیاتی انقلاب: الیکٹرک بسیں فعال، شہر جدیدیت کی جانب بارہ روزہ جنگ میں پاکستان کی مضبوط حمایت کبھی نہیں بھولیں گے،ایرانی سفیر سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی طاہر حسین اپنی مدتِ ملازمت مکمل کر کے باعزت ریٹائرڈCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بڑھ سکتے ہیں کے درمیان نے کہا کہ اور ان کے پی ٹی آئی بہتر سمت انہوں نے پہیہ جام ملک کے 5 کے خلاف اور اس
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس