فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے غلط تاثر کی تردید کی ہے کہ یہ عمل غیر منصفانہ ٹیکس عائد کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس کیخلاف کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے اعتراضات مسترد کردیے

ایف بی آر کے مطابق، برآمد کنندگان سے متعلق قانونی فریم ورک میں فنانس ایکٹ 2024 کے تحت ترمیم کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان پر لاگو ٹیکس نظام کو فائنل ٹیکس ریجیم (Final Tax Regime) سے کم از کم ٹیکس ریجیم (Minimum Tax Regime) میں تبدیل کیا گیا۔ اس تبدیلی کا اطلاق ٹیکس سال 2025 کے انکم ٹیکس گوشواروں پر لازمی ہے۔

@FBRSpokesperson clarifies that reports circulating on #socialmedia regarding unjust scrutiny of #exporters’ #IncomITax returns are misleading and incorrect.

1/3@IRSPakistan

— FBR (@FBRSpokesperson) January 1, 2026

ایف بی آر نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قانون کے مطابق گوشواروں کی پروسیسنگ کریں۔ گوشواروں کا ڈیسک آڈٹ کرنا اور ٹیکس قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ایف بی آر کی قانونی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر خفیہ دولت کی تلاش کے لیے کونسے نئے طریقے اپنا رہا ہے؟

ایف بی آر نے واضح کیا کہ ٹیکس دہندگان کو بےجا زحمت سے بچانے کے لیے یہ عمل ہیڈکوارٹرز کی نگرانی میں شروع کیا گیا ہے۔ بورڈ منصفانہ ٹیکس نظام کے قیام اور ٹیکس قوانین کے شفاف اور پیشہ ورانہ نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Minimum Tax Regime انکم ٹیکس گوشوارے ایف بی آر برآمد کنندگان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انکم ٹیکس گوشوارے ایف بی ا ر برآمد کنندگان برآمد کنندگان انکم ٹیکس ایف بی آر کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف