امریکا وینزویلا کے آئل ٹینکر کا تعاقب فوری بند کرے، روس کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت سے باز رہے اور جہاز کے تعاقب سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے، امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ روس وینزویلا جانے والے آئل ٹینکر کو بچانے کے لیے کھل کر میدان میں آگیا ہے اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ بحری جہاز کا تعاقب ترک کر دے۔ روس نے سفارتی سطح پر امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ بحر اوقیانوس میں موجود وینزویلا کے آئل ٹینکر کا مسلسل پیچھا کرنا بند کرے، یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وینزویلا کا آئل ٹینکر جہاز بیلا ون اس وقت بحر اوقیانوس میں موجود ہے اور امریکی کوسٹ گارڈ کی گرفت سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکی افواج گذشتہ تقریباً دو ہفتوں سے اس جہاز کا مسلسل تعاقب کر رہی ہیں، امریکا کا مؤقف ہے کہ مذکورہ ٹینکر تیل کی سمگلنگ میں ملوث ہے اور وینزویلا کے لیے غیر قانونی طور پر تیل لے جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کے تیل کے شعبے پر دباؤ بڑھانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چار کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جو وینزویلا کے آئل سیکٹر میں سرگرم ہیں، ان پابندیوں کا مقصد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر سیاسی اور معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔ دوسری جانب روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت سے باز رہے اور جہاز کے تعاقب سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے، امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا پہلے ہی وینزویلا کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرچکا ہے، جبکہ روس وینزویلا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور عالمی سطح پر دونوں طاقتوں کے درمیان اس معاملے پر تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کے کیا ہے کہ ہے اور
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔