data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

افریقا سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے ساتھ المناک سانحہ گیمبیا کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں پیش آیا، جہاں سیکڑوں افراد کو لے جانے والی ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔

اس حادثے نے ایک بار پھر مہاجرین کی جانب سے دنیا کے خطرناک ترین راستوں پر غیر قانونی سفر کے نتیجے میں انسانی جانوں کو لاحق سنگین خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔

گیمبیا کے محکمہ دفاع کے مطابق یہ کشتی ممکنہ طور پر 200 سے زائد تارکینِ وطن کو لے کر جا رہی تھی، جن میں بڑی تعداد مغربی افریقا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔ حادثے کے بعد اب تک 96 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، تاہم لاپتا افراد کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن وقت کے خلاف جاری ایک مشکل جدوجہد ہے کیونکہ سمندری حالات اور اندھیرا امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنے رہے۔

بیان کے مطابق کشتی آدھی رات کے قریب نارتھ بینک ریجن کے ایک ساحلی گاؤں کے نزدیک الٹ گئی تھی، جس کے بعد یہ ایک ریت کے ٹیلے پر پھنسی ہوئی پائی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بحریہ کی اسپیڈ بوٹس، ساحلی گشت کی کشتی اور ایک مقامی ماہی گیری کی کشتی کو ریسکیو کے لیے روانہ کیا گیا۔ مقامی ماہی گیروں نے رضاکارانہ طور پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے کر کئی قیمتی جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔

ریسکیو کیے گئے افراد میں سے 10 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام نے تاحال متاثرین کی شناخت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم اندازہ ہے کہ زیادہ تر افراد مغربی افریقا سے تعلق رکھتے تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانا چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ گیمبیا اور دیگر مغربی افریقی ممالک سے اسپین کے کنری جزائر تک کا سمندری راستہ دنیا کے سب سے خطرناک مہاجر راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق صرف 2024 میں 46 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کنری جزائر پہنچے، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسی دوران 10 ہزار سے زائد افراد اس راستے پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران مغربی افریقا کے راستے غیر قانونی مہاجرت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک