یورپ پہنچنے کی کوشش: گیمبیا میں تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، کئی ہلاک، درجنوں لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افریقا سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے ساتھ المناک سانحہ گیمبیا کے شمال مغربی ساحلی علاقے میں پیش آیا، جہاں سیکڑوں افراد کو لے جانے والی ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
اس حادثے نے ایک بار پھر مہاجرین کی جانب سے دنیا کے خطرناک ترین راستوں پر غیر قانونی سفر کے نتیجے میں انسانی جانوں کو لاحق سنگین خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
گیمبیا کے محکمہ دفاع کے مطابق یہ کشتی ممکنہ طور پر 200 سے زائد تارکینِ وطن کو لے کر جا رہی تھی، جن میں بڑی تعداد مغربی افریقا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔ حادثے کے بعد اب تک 96 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، تاہم لاپتا افراد کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن وقت کے خلاف جاری ایک مشکل جدوجہد ہے کیونکہ سمندری حالات اور اندھیرا امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنے رہے۔
بیان کے مطابق کشتی آدھی رات کے قریب نارتھ بینک ریجن کے ایک ساحلی گاؤں کے نزدیک الٹ گئی تھی، جس کے بعد یہ ایک ریت کے ٹیلے پر پھنسی ہوئی پائی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بحریہ کی اسپیڈ بوٹس، ساحلی گشت کی کشتی اور ایک مقامی ماہی گیری کی کشتی کو ریسکیو کے لیے روانہ کیا گیا۔ مقامی ماہی گیروں نے رضاکارانہ طور پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے کر کئی قیمتی جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔
ریسکیو کیے گئے افراد میں سے 10 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حکام نے تاحال متاثرین کی شناخت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم اندازہ ہے کہ زیادہ تر افراد مغربی افریقا سے تعلق رکھتے تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانا چاہتے تھے۔
یاد رہے کہ گیمبیا اور دیگر مغربی افریقی ممالک سے اسپین کے کنری جزائر تک کا سمندری راستہ دنیا کے سب سے خطرناک مہاجر راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق صرف 2024 میں 46 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کنری جزائر پہنچے، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسی دوران 10 ہزار سے زائد افراد اس راستے پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران مغربی افریقا کے راستے غیر قانونی مہاجرت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک