پنجاب، پختونخوا اور سندھ کے مختلف حصوں میں شدید دھند، گاڑیاں چلانا انتہائی خطرناک ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پنجاب، پختونخوا اور سندھ کے مختلف حصوں میں شدید دھند، گاڑیاں چلانا انتہائی خطرناک ہوگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس) بارش گزرتے ہی پنجاب، خیبرپختونخوا اور بالائی سندھ کے مختلف حصے شدید دھند کی لپیٹ میں آگئے۔
دھند کی وجہ سے موٹر ویز اور ہائی ویز پرگاڑیاں چلانا خطرناک ہوگیا، حد نگاہ انتہائی کم ہونے اور حادثوں کے خدشات پر ٹریفک روک دی گئی۔
موٹر وے ایم ون پشاور ٹال پلازہ سے برہان، ایم 2 ٹھوکر نیاز بیگ سے بالکسر، ایم 3 فیض پور سے درخانہ ، ایم 4 شیر شاہ سے پنڈی بھٹیاں اور ایم 5 روہڑی سے شیر شاہ تک بند ہے جبکہ ایم الیون پر بھی ٹریفک معطل ہے۔
اس کے علاوہ لاہور کا فضائی معیار آج قدرے بہتر ہے جبکہ فیصل آباد، شیخوپورہ میں فضا انتہائی مضر صحت ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب نواب شاہ مین مہران ہائی وے پر شدید دھند کے باعث ٹریفک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ْ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرطالبان حکومت پر امدادی رقوم میں لوٹ مار کے سنگین الزامات طالبان حکومت پر امدادی رقوم میں لوٹ مار کے سنگین الزامات ملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ بلوم برگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور پالیسی استحکام کی تصدیق کردی اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کیلئے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی اسلام آباد میں ترقیاتی انقلاب: الیکٹرک بسیں فعال، شہر جدیدیت کی جانبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔