روزویلٹ ہوٹل منصوبہ، کتنے ارب ڈالر لاگت آئے گی اورپاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیویارک کے وسطی میدٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی کے لیے 3 سے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک جوائنٹ وینچر (JV) ماڈل اپنائے گا، تاکہ اس اہم غیر ملکی اثاثے کی قدر میں 250 فیصد تک اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
No outright sale of Roosevelt Hotel, says privatisation chief
https://t.
— Syeda Yasmeen Ali (@yasmeen_9) January 2, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بتایا کہ 16 منزلہ یہ ہوٹل فروخت کے بجائے دوبارہ ترقی دی جائے گی، کیونکہ فوری فروخت سے اس کی مکمل تجارتی صلاحیت کا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ گزشتہ سال کی گئی ایک تفصیلی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس پراپرٹی پر 50 سے 60 منزلہ عمارت بنائی جا سکتی ہے۔ یہ ہوٹل حال ہی میں پی آئی اے کی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیا گیا تھا اور اس کا مطالعہ جے ایل ایل (Jones Lang LaSalle Americas Inc.) نے کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کے منصوبے کے تحت زمین کی ملکیت حکومت کے پاس رہے گی جبکہ نجی شراکت دار تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور مزید 2-3 ارب ڈالر قرض کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔ ترقی کے بعد حکومت کی ملکیت 100 فیصد سے کم ہو کر 40 سے 50 فیصد رہ جائے گی، مگر توقع ہے کہ اثاثے کی مجموعی قدر میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کا دباؤ، پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل گرانے اور فلک بوس ٹاور تعمیر کرنے پر غور
اس تاریخی ہوٹل میں ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور یہ ہوٹل سال 2000 میں پاکستان نے حاصل کیا تھا۔ 2020 میں مالی نقصان کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا تھا اور بعد میں عارضی طور پر مہاجرین کے لیے استعمال کیا گیا۔ حکومت نے براہِ راست فروخت کی بجائے اس کی دوبارہ ترقی کے ماڈل کو ترجیح دی ہے، جبکہ پیرس کے ہوٹل اسکرائب کو فی الحال نجکاری یا ترقی کی منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان روزویلٹ ہوٹل مشیر برائے نجکاری محمد علی نیویارک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان روزویلٹ ہوٹل مشیر برائے نجکاری محمد علی نیویارک ارب ڈالر
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔