جب نوجوان نسل ہی بیمار ہوگی تو آپ کا ملک کیسے ترقی کرے گا، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
تھیلیسیمیا موبائل وین کے افتتاح کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے کیلئے پولیس ساتھ بھیجتے ہیں، اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی ہے لیکن رشتے دار ایک دوسرے کو اعضا دے سکتے ہیں، بون میرو ٹرانسپلانٹ کے مرحلے کو آسان بنارہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی ہے، ہر سال 62 لاکھ مزید بچے پیدا ہو رہے ہیں، پیدائش میں وقفہ دے نہیں رہے اور اسپتالوں کو برا کہتے ہیں۔ ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کے افتتاح کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اسپتال بنانے پر نہیں مریض کم کرنے پر توجہ دینی ہے، جب نوجوان نسل ہی بیماری ہوگی تو آپ کا ملک کیسے ترقی کرے گا، ہمارے یہاں بچے کی پیدائش کے وقت 400 ماؤں کی اموات ہوتی ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ارادے انسان کرتا ہے پھر اللہ ان سے کام لیتا ہے، تھلیسیمیا مرض کو روکا جاسکتا ہے، دو متاثرہ افراد کی شادی ہوگی تو بچہ متاثر ہی پیدا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کہتا ہے 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے ہوتی ہیں، صاف پانی آپ کو وزیر صحت تو نہیں دے گا، ہیلتھ کیئر انسان کو مریض بننے سے بچانے کا نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے کیلئے پولیس ساتھ بھیجتے ہیں، اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی ہے لیکن رشتے دار ایک دوسرے کو اعضا دے سکتے ہیں، بون میرو ٹرانسپلانٹ کے مرحلے کو آسان بنارہے ہیں، ہم کئی ملکوں سے بڑے ملک اور بڑے شہر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیدائش میں وقفہ دے نہیں رہے اور اسپتالوں کو برا کہتے ہیں، ہمیں اسپتال بنانے پر نہیں مریض کم کرنے پر توجہ دینی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔