کراچی ائیرپورٹ پر ایک افسر چوہے پکڑنے کی ڈیوٹی پر تعینات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر انتظامی امور کے انوکھے فیصلے کے تحت ایک افسر کو سیوریج، بیت الخلاؤں کی صفائی اور چوہے پکڑنے کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد صفائی کے نظام کو بہتر بنانا اور مسافروں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افسر ایئرپورٹ کے مختلف ٹرمینلز میں سیوریج کے نظام، عوامی بیت الخلاؤں کی صفائی اور چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے انتظامات کی نگرانی کرے گا۔
اس عہدے کی بنیاد ڈپٹی ڈائریکٹر نے رکھی ہے جبکہ ڈائریکٹر کراچی منتظر مہدی نے اسسٹنٹ سب انسپیکٹر منور مہدی کو یہ ذمہ داری سونپتے ہوئے ایڈمن انچارج بنایا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق شکایات میں اضافے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب اس تقرری پر ایئرپورٹ کے عملے اور سوشل میڈیا حلقوں میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض افراد نے اسے انتظامی نااہلی جبکہ بعض نے غیر معمولی مگر ضروری قدم قرار دیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق صفائی کے نظام میں بہتری نہ صرف مسافروں کے اطمینان کے لیے ضروری ہے بلکہ بین الاقوامی معیار برقرار رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔