ناردرن بائی پاس منصوبے کیلئے 3.9 ارب وفاق سے تعاون کرینگے: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے سے متعلق اجلاس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زیر تعمیر ناردرن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے لئے 3.9 ارب روپے بطور بریج فنانسنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اجلاس میں این ایچ اے حکام کی جانب سے منصوبہ جون 2026ء تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کروا دی گئی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی کی جانب سے ناکافی فنڈنگ کے باعث پشاور ناردرن بائی پاس 2010ء سے اب تک مکمل نہ ہو سکا، وفاقی سطح پر تاخیر کے باعث خیبر پی کے کے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ عوامی مفاد کا منصوبہ ہے، صوبائی حکومت اس کی جلد تکمیل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر اب تک 23.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ناردرن بائی پاس
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔