انرجی ڈرنک کی نقل کرنے پر معروف برانڈ پر کروڑوں روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کمپٹیشن کمیشن نے غیر ملکی برانڈ کی انرجی ڈرنک کی نقل کرنے پر معروف برانڈ پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
کمپٹیشن کمیشن نے سال 2026 میں پہلا بڑا جرمانہ عائد کر دیا۔ کئی سال سے زیر التوا انرجی ڈرنک کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
سی سی پی کے فیصلے کے مطابق مشروب بنانے والی کمپنی صارفین کو گمراہ کرنے کی مرتکب پائی گئی۔ مقامی انرجی ڈرنک نے غیر ملکی برانڈ کی انرجی ڈرنک کی پیکجنگ اور مجموعی انداز کی نقل کی۔ رنگ، بوتل، تحریر اور ڈیزائن کی تقل سے صارفین کو گمراہ کیا گیا۔
غیر ملکی برانڈ کی شکایت پر انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا۔
فیصلے کے مطابق مقامی برانڈ نے متعلقہ ’’انرجی ڈرنک‘‘ کی شہرت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جبکہ عدالتی کارروائیوں اور اسٹے لے کر انکوائری میں تاخیر کی۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں مقامی برانڈ کی اپیل ناقابلِ سماعت اور تاخیری حربہ قرار دی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ٹریڈ مارک رجسٹریشن، کمپٹیشن قانون سے استثنا فراہم نہیں کرتی
کمپٹیشن کمیشن کے مطابق معروف برانڈز کی نقل کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، گمراہ کن پیکجنگ اور کاپی کیٹ برانڈنگ پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انرجی ڈرنک کی برانڈ کی کی نقل
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔