کیا ٹرمپ اجلاسوں میں سو جاتے ہیں؟ امریکی صدر نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہاتھ پر پڑنے والے نمایاں نیل کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ روزانہ استعمال کی جانے والی اسپرین کی وجہ سے ہیں، نہ کہ کسی چوٹ یا نیند کے دوران گرنے کے باعث ہیں۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ وہ سرکاری اجلاسوں کے دوران اونگھتے یا سو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
79 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ، جو امریکا کی تاریخ کے معمر ترین صدر ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ خون کو پتلا رکھنے کے لیے روزانہ اسپرین استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ہاتھ پر نیل پڑ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے بعض اوقات وہ ہاتھ پر میک اپ یا پٹی بھی لگاتے ہیں۔
مزید پڑھیںنئے سال کی آمد پر ٹرمپ کی بڑی خواہش سامنے آگئی
رفح گزرگاہ کھلنے جا رہی ہے؟ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے خفیہ معاہدے کا انکشاف
صدر ٹرمپ نے مزید وضاحت کی کہ ایک موقع پر ان کے ہاتھ پر لگنے والی چوٹ اس وقت آئی جب اٹارنی جنرل پام بونڈی نے انہیں ہائی فائیو دیتے ہوئے انگوٹھی سے ہاتھ پر ضرب لگائی۔
انٹرویو میں ٹرمپ نے اپنی طبی جانچ سے متعلق پچھلا بیان بھی تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ان کا ایم آر آئی نہیں بلکہ ایک سادہ سی ٹی اسکین ہوا تھا۔ ان کے معالج شان باربیبیلا کے مطابق یہ اسکین دل سے متعلق کسی بھی ممکنہ مسئلے کو مسترد کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کی صحت، ہاتھ پر نیل، ٹخنوں کی سوجن اور بعض اجلاسوں میں آنکھیں بند ہونے کے مناظر کے بعد سوالات اٹھائے جا رہے تھے، جن پر اب انہوں نے تفصیلی وضاحت پیش کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہاتھ پر
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔