بلوچستان میں خواتین اور طالبات کیلیے پنک بس سروس کا آغاز کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کوئٹہ:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں خواتین اور طالبات کے لیے پنک بس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے صوبائی وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنک بس سروس کا مقصد خواتین اور طالبات کی روزمرہ آمد و رفت کو محفوظ اور باوقار بنانا ہے۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ پنک بس سروس کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔
الحمد اللہ سال کے آغاز پر ہی بلوچستان میں خواتین اور طالبات کے لیے پہلی بار پنک بس سروس کا آغاز کردیا گیا ہے تاکہ انکی روزمرہ آمد و رفت محفوظ اور باوقار بنائی جا سکے۔ ہماری حکومت کی ترجیح ہے کہ یہ سہولت مستقل بنیادوں پر آگے بڑھے اور آئندہ اس کا دائرہ دیگر اضلاع تک پھیلایا جائے۔ pic.
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں پنک بس سروس کا دائرہ دیگر اضلاع تک پھیلایا جائے گا، پنک بس سروس خواتین کو تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ نظام صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے، بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواتین اور طالبات پنک بس سروس کا میں خواتین کے لیے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔