وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں آبی حیات خصوصاً شرمپ فارمنگ کے فروغ کے لیے بڑے اور تاریخی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے تحت سرگودھا اور علی پور میں مجموعی طور پر 5 ہزار 600 ایکڑ رقبے پر شرمپ سٹیٹس قائم کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق بنجر اور سیم زدہ زمینوں کو شرمپ فارمنگ کے ذریعے پہلی مرتبہ قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے جو زرعی اور معاشی ترقی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے، سرگودھا میں شرمپ فارمنگ منصوبے کی 15ویں یومیہ ترقیاتی رپورٹ بھی جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق 20 ایکڑ اراضی پر 9 تالاب شرمپ فارمنگ کے لیے تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ 5 ہزار 320 میٹر ڈرینج کا کام مکمل ہو چکا ہے، اگلے مرحلے میں مزید 10 ایکڑ اراضی پر سروے بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔لاہور میں ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے قائم کی جانے والی کوالٹی کنٹرول لیبارٹری کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ مظفرگڑھ میں تحقیق اور شرمپ فارمنگ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کی لیبارٹری کا 98 فیصد کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔شرمپ فارمنگ کے فروغ کے لیے پاکستانی ماہرین کے سعودی عرب اور میکسیکو کے تربیتی دورے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ عملے کی فراہمی کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے، ٹیکنیکل تربیت کے لیے غیر ملکی ماہرین جیفری اور جیمی ڈومین سیک نے بھی پاکستان کا دورہ کیا، اس کے علاوہ شرمپ فارمنگ پراجیکٹ کے لیے 100 انٹرنز کے تحریری امتحانات بھی ہو چکے ہیں۔شرمپ فارمنگ کے لیے 32 ٹیوب ویلوں اور 8 ٹرانسفارمرز کی تنصیب کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ شرمپ فارمنگ ریسرچ کے لئے 64 تالابوں میں شرمپ کا بیج ڈالا گیا تھا، سرگودھا کے چک نمبر 58 میں 124 ایکڑ اراضی پر شرمپ سٹیٹ اور ویلیو چین قائم ہوگی ہے اور 57 تالاب کی کھدائی مکمل کر لی گئی ہے۔علاوہ ازیں رکھ علی ولی مظفرگڑھ میں شرمپ فارمز کے لیے 2 ہزار 507 ایکڑ اراضی کی صفائی اور ہموار کرنے کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ وہاں 57 تالابوں اور 50 ٹیوب ویلز کی کھدائی کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ شرمپ فارمنگ کے آغاز سے پنجاب کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پنجاب میں بلیو اکانومی کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم منصوبہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نواز شریف شرمپ فارمنگ کے ایکڑ اراضی بھی مکمل مکمل ہو گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف