فیب فور میں شامل کون سے بلے باز پی ایس ایل میں جلوہ گر ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز جو روٹ کو پاکستان سپر لیگ میں شامل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد فرنچائزز ٹورنامنٹ کے توسیع شدہ ایڈیشن سے قبل اپنی ٹیموں کو مضبوط بنانے کے لیے جو روٹ کو حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ایس ایل میں عالمی سطح کے کھلاڑیوں کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انگلینڈ کے آل راؤنڈر معین علی اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلیسی پہلے ہی آئندہ سیزن کے ڈرافٹ میں اپنا نام شامل کروا چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی ڈرافٹ سسٹم کے ساتھ ساتھ براہِ راست کھلاڑیوں کے معاہدوں پر بھی غور کر رہا ہے، جس کے تحت فرنچائزز کو ڈرافٹ سے باہر دو بڑے غیر ملکی کھلاڑی سائن کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
34 سالہ جو روٹ بین الاقوامی کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے لیے جانے جاتے ہیں اور حال ہی میں وہ 22 ہزار سے زائد بین الاقوامی رنز مکمل کر کے جدید دور کے عظیم بلے بازوں میں شامل ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک کھیلا جائے گا جس میں پہلی بار آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔