پلوامہ، بھارتی پولیس کا جماعت اسلامی کے رکن کے گھر پر چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی کے رکن کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور تاریخی کتابیں، دستاویزات، لیپ ٹاپ اور موبائل فون ضبط کر لیے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ایک رکن کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ تلاشی کی کارروائی مقبوضہ علاقے میں آزادی پسند رہنمائوں اور ان کے حامیوں کے خلاف پرتشدد کارروائی کا حصہ ہے۔ چھاپے کے دوران بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی کے رکن کے اہل خانہ کو ہراساں کیا اور تاریخی کتابیں، دستاویزات، لیپ ٹاپ اور موبائل فون ضبط کر لیے۔ بھارتی پولیس نے آپریشن کے دوران متعدد افراد سے پوچھ گچھ بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی پولیس نے جماعت اسلامی رکن کے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔