جائیدادوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
جائیدادوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے پنجاب حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا۔
پنجاب کے20 اضلاع میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا آغاز ہوگیا، فرد اور رجسٹریوں کی جگہ اب گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ چلے گا۔
سیالکوٹ میں بطور پائلٹ پراجیکٹ منصوبہ لانچ کیا گیا، ملتان، ساہیوال، جہلم، راولپنڈی، اوکاڑہ، خوشاب سمیت 20 اضلاع شامل ہیں، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ڈیجیٹل ہوگا، دائرہ کارمرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کےلیے درخواست قریبی اراضی ریکارڈ سینٹر،متعلقہ اتھارٹیزمیں جمع کرائی جا سکتی ہے، پنجاب لینڈریکارڈ اتھارٹی درخواست کی وصولی،کوائف کی جانچ،سروے کی تصدیق کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔
حکام کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سے جعلسازی کا خاتمہ ہوگا، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ عوامی جائیدادوں کے تحفظ کا ضامن ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔