غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ ڈپریشن کی اہم وجوہات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدید دور میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن تیزی سے بڑھتے ہوئے مسائل بن چکے ہیں اور ماہرین صحت کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ انسان کا غیر متوازن طرزِ زندگی اور غلط غذائی عادات ہیں۔
روزمرہ زندگی میں بے ترتیبی، مسلسل ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت بخش غذا نہ صرف جسمانی بیماریوں کو جنم دیتی ہے بلکہ ذہنی صحت کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ صحت مند رہنے کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جو دستیاب ہو وہی کھانا شروع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں موٹاپا، کمزوری، سستی اور ذہنی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق مسلسل زیادہ کھاتے رہنا، فاسٹ فوڈ، میٹھی اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں کا حد سے زیادہ استعمال دماغی کیمیائی توازن کو بگاڑ دیتا ہے، جو آگے چل کر ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ دفاتر، اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل اوقاتِ کار، ذہنی دباؤ اور غیر منظم کھانے پینے کی عادات ڈپریشن کو جنم دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کئی افراد خود بھی اس بات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ آیا ان کی روزمرہ عادات ان کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں یا نہیں۔
ڈپریشن کے شکار افراد عموماً اداسی، نیند کی کمی، بھوک میں کمی، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور اکثر ان علامات سے نجات کے لیے صرف ادویات پر انحصار کرتے ہیں، تاہم تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ محض دوائیں ہی کافی نہیں ہوتیں بلکہ ماحول، طرزِ زندگی اور خاص طور پر خوراک میں مثبت تبدیلی ذہنی صحت کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبرن میں کی گئی ایک تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈپریشن پر قابو پانے کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ کون سی غذائیں نقصان دہ ہیں اور کون سی غذائیں ذہنی سکون میں اضافہ کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق غذا اور دماغی صحت کا گہرا تعلق ہے۔ جب جسم کو متوازن اور معیاری غذا فراہم کی جاتی ہے تو دماغ بہتر انداز میں کام کرتا ہے، سوچنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کی رپورٹس کے مطابق دالیں، مچھلی، تازہ پھل اور سبزیوں کا زیادہ استعمال ڈپریشن کے امکانات کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔ دماغ کی ساخت میں چکنائی، پروٹین اور امائنو ایسڈز شامل ہوتے ہیں، اسی لیے گری دار میوے، بیج اور مچھلی جیسی غذائیں دماغی خلیات کی نشوونما میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ غذائی عادات کا براہِ راست تعلق نیند سے بھی ہے۔ اگر کوئی شخص رات کو جاگتا رہے اور دن میں غنودگی محسوس کرے تو اس کی ایک بڑی وجہ غیر متوازن غذا ہو سکتی ہے۔
ماضی کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سمندری غذاؤں کا استعمال بڑھانے اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کرنے سے ڈپریشن میں واضح کمی آتی ہے۔ بی ایم سی میڈیسن میں شائع تحقیق کے مطابق سبزیوں، پھلوں، کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات، بغیر نمک میوہ جات، مچھلی، زیتون کے تیل اور انڈوں کا استعمال ذہنی صحت کو بہتر بناتا ہے، جبکہ فاسٹ فوڈ اور میٹھی اشیا ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بعض غذائیں قدرتی طور پر دواؤں جیسا اثر رکھتی ہیں۔ ہری سبزیاں، سامن مچھلی، بروکولی، لہسن، ادرک اور ہلدی نہ صرف قوتِ مدافعت بڑھاتی ہیں بلکہ سوزش کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح گرین ٹی، دہی، پھل اور سبزیاں مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیں ماہرین کے مطابق اور ذہنی کی کمی
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔