پختونخوا کی جامعات میں نگراں دور کے دوران بھرتی 645 ملازمین کو فارغ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پشاور:
محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے نگراں دور میں بھرتی 645 ملازمین کو 10 روز میں فارغ کرنے کا حکم دیتے ہوئے جامعات سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
محکمہ اعلی تعلیم نے جامعات کو خیبر پختونخوا ریموول فرام سروس ایکٹ 2025 پر فوری اور مکمل عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دیں۔
نگراں دور کے دوران 18 جامعات میں 645 ملازمین بھرتی کیے گئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق ویمن یونیورسٹی مردان میں 140، زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں 120، بونیر یونیورسٹی میں 76، چترال یونیورسٹی میں 63، ملاکنڈ یونیورسٹی میں 54، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں 34 اور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں 33 ملازمین بھی بھرتی کیے گئے۔
انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں 32، سوات یونیورسٹی میں 22، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل میں 15، بنوں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں 14، لکی مروت یونیورسٹی میں 11 اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں 9 ملازمین بھرتی ہوئے۔
شہداء آرمی پبلک اسکول یونیورسٹی نوشہرہ میں 8، ہری پور یونیورسٹی میں 6، پشاور یونیورسٹی میں 4 اور پاک آسٹریا ہری پور میں بھی 4 ملازمین بھرتی کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔