سونا پھر مہنگا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کراچی:
سونے کی قیمت 4 روز مسلسل اضافے کے بعد آج پھر بڑھ گئی۔
عالمی مارکیٹ اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا رحجان غالب ہوگیا۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت 57ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 379ڈالر کی سطح پر آگئی۔
عالمی نرخوں کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 700روپے کے اضافے سے 4لاکھ 60ہزار 262 روپے کی سطح پر آگئی اور اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 4ہزار 887روپے کے اضافے سے 3لاکھ 94ہزار 600روپے کی سطح پر آگئی۔
سونے کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 227روپے کے اضافے سے 7ہزار 862روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 195روپے کے اضافے سے 6ہزار 740روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت کے اضافے سے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔