ندا یاسر ایک بار پھر ٹرولنگ کا شکار، نیو ایئر لُک پر صارفین برہم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان ندا یاسر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئی ہیں۔ حال ہی میں نئے سال کی تقریب کے موقع پر ان کے لباس نے صارفین کی خاصی توجہ حاصل کی تاہم یہ توجہ مثبت کے بجائے تنقیدی ثابت ہوئی۔
نئے سال کی تقریب کے دوران ندا یاسر نے سنہری رنگ کا چمکدار لباس زیب تن کیا جس کے ساتھ سیاہ لیگنگز اور سیاہ مختصر شرگ شامل تھا جسے انہوں نے گرہ لگا کر باندھا ہوا تھا۔ تقریب میں ان کے اہلِ خانہ بھی سیاہ اور سنہری رنگ کے ملبوسات میں نظر آئے۔
View this post on Instagram
A post shared by Nida Yasir (@itsnidayasir.
ندا یاسر کے لباس کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی صارفین نے ان کے انداز کو پرانا اور غیر موزوں قرار دیا جبکہ بعض نے لباس کے انتخاب پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ کچھ صارفین نے اسے غیر مہذب قرار دیا تو بعض نے ان کے فیشن سینس پر سوالات اٹھائے۔
رابعہ دانش نے کہا کہ ایسا لگتا ہے یہ لوگ لنڈا مال کی تشہیر کر رہے ہیں، ماریہ خلجی کہتی ہیں کہ پیسہ کلاس نہیں خرید سکتا۔ ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ساری زندگی گزار دیتے ہیں مگر باوقار لباس پہننے کا ہنر نہیں سیکھ پاتے اور ندا انہی میں سے ایک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیلیوری والوں کے پاس چینج نہ ہونے پر بدنیتی کا الزام، ندا یاسر کو لوگوں نے آڑے ہاتھوں لےلیا
ایک سوشل میڈیا صارف نے ندا یاسر کو ’پینڈو‘ کہتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ لباس ندا نے خود تیار کیا ہے، جبکہ ایک صارف نے ان کی فیملی کو کارٹون نیٹ ورک کہہ کر بلایا۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ندا یاسر تنقید کی زد میں آئی ہوں اس سے قبل بھی وہ متعدد بار سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کر چکی ہیں۔ تاہم اس بار نئے سال کے موقع پر سامنے آنے والی تصاویر نے ایک بار پھر انہیں سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ندا یاسر ندا یاسر تنقید ندا یاسر ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ندا یاسر ندا یاسر تنقید ندا یاسر ویڈیو وائرل سوشل میڈیا ندا یاسر
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔