ویون گروپ کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان، معاشی اصلاحات پر عالمی اعتماد بحال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونے لگا ہے اور ملک نے 2026 کا آغاز مضبوط معاشی اشاروں کے ساتھ کیا ہے۔
ویون گروپ کی جانب سے موبی لنک بینک میں سرمایہ کاری رواں سال کی پہلی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے، جو پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی عمل پر عالمی اعتماد کی عکاس ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سماجی سرمایہ کاری کے نئے مالیاتی فریم ورک کا اجرا
ماہرین کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں بہتر ضابطہ کاری، معاشی استحکام اور حکومتی اصلاحات نے عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے۔ خاص طور پر ڈیجیٹل بینکاری، مالی شمولیت اور اسلامی فنانس جیسے شعبے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔
اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ ویون گروپ کی سرمایہ کاری استحکام سے ترقی کے سفر کی توثیق کرتی ہے اور اس سے پاکستان کی عالمی سرمایہ کاری ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری پائیدار اور ترقی پر مبنی معاشی نمو کو سہارا دیتی ہے جبکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر تقویت ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مقامی سرمایہ کاروں کے آگے آنے سے بیرونی سرمایہ کاری بھی آئےگی، وزیر خزانہ
تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد حکومتی اصلاحات کی تصدیق ہے اور ایک مثبت اشارہ ہے جو مستقبل میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی ڈیجیٹل آپریٹر ویون گروپ (VEON Group) نے پاکستان میں موبی لنک بینک کی ترقی اور ڈیجیٹل اسلامی بینکنگ کے فروغ میں معاونت کے لیے 20 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سرمایہ کاری موبی لنک ویون گروپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ویون گروپ غیر ملکی سرمایہ کاری کی سرمایہ کاری سرمایہ کاروں پاکستان میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔