ملکی تاریخ میں پہلی بار، کے پی حکومت نے جامعات کی رینکنگ کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
منظوری کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر کے پی کی جامعات، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی اسٹاف کے لیے یہ رینکنگ نظام ایک تحفہ ہے جو تعلیمی معیار، شفافیت اور مسابقت کو فروغ دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے جامعات کے لیے صوبائی سطح پر رینکنگ نظام کی منظوری دے دی جس کے بعد خیبر پختونخوا رینکنگ کی منظوری دینے والا پہلا صوبہ بن گیا۔ کے پی حکومت کے مطابق ایک سال کی انتھک کوششوں کے بعد، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے خیبر پختونخوا جامعات رینکنگ سسٹم کی باضابطہ منظوری دی، جس کے بعد خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں اپنی نوعیت کا جامع صوبائی یونیورسٹی رینکنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ منظوری کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر کے پی کی جامعات، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی اسٹاف کے لیے یہ رینکنگ نظام ایک تحفہ ہے جو تعلیمی معیار، شفافیت اور مسابقت کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا جامعات رینکنگ سسٹم کی تیاری میں بین الاقوامی معیار کے کیو ایس (QS) اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) جبکہ قومی سطح پر ایچ ای سی کے رینکنگ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے بہترین اشاریوں کو صوبائی تقاضوں کے مطابق شامل کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے بتایا کہ نئے رینکنگ نظام کے تحت تمام سرکاری جامعات کو ایک ماہ کے اندر مقررہ پروفارما کے ذریعے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ مارچ کے مہینے میں پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ لسٹ جاری کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ جامعات کو مالی گرانٹس کی فراہمی میں بھی رینکنگ سسٹم کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ بہتر کارکردگی دکھانے والی جامعات کو مزید سہولیات دی جا سکیں۔
مینا خان آفریدی نے کہا کہ اس رینکنگ نظام میں جامعات کی کارکردگی جانچنے کے لیے گورننس، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، فنانس و فنڈ جنریشن، اسٹوڈنٹس سپورٹ سروسز، اکیڈمک ایکسلینس اور دیگر اہم اشاریوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر زاویے سے جامع اور شفاف تجزیہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ نظام کو مکمل تحقیق اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں تاحال جامعات کے لیے کسی صوبائی سطح کے رینکنگ نظام پر کام نہیں ہوا اور خیبرپختونخوا اس حوالے سے بھی سبقت لے گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین عمران خان آج آزاد ہوتے تو خیبرپختونخوا کی اس تعلیمی کامیابی اور بلند پرواز پر ضرور تالیاں بجاتے۔
مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، معیار اور عالمی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ خیبر پختونخوا کی جامعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلایا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پختونخوا جامعات رینکنگ خیبر پختونخوا جامعات کو نے کہا کہ انہوں نے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔