خیبرپختونخوا: مسلسل دوسرے روز گیس کے نئے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبرپختونخوا میں توانائی کے شعبے میں خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مسلسل دوسرے روز نئے گیس ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) نے اس سلسلے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ آگاہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل کوہاٹ ضلع میں تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت کے بعد وزیراعظم نے قوم کو مبارک باد دی تھی، اور آج ایک اور اہم ذخیرہ سامنے آیا ہے، جس سے مستقبل میں توانائی کے مزید امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چند روز میں مزید ذخائر کے سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے، جو ملکی توانائی کے شعبے کے لیے حوصلہ افزا خبر ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے خط میں بتایا کہ کوہاٹ کے ٹال بلاک سے روزانہ 1.
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف خطے کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی مثبت اثر ڈالے گی۔ مزید یہ کہ نئے ذخائر کی دریافت کے بعد پاکستان کی توانائی کی خود کفالت کی کوششوں کو تقویت ملے گی اور درآمدی انحصار میں کمی آئے گی۔
توانائی کے ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مزید کھدائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کوہاٹ سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں گیس و تیل کے مزید ذخائر دریافت ہو سکتے ہیں، جو ملکی توانائی کے شعبے کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ذخائر دریافت توانائی کے کی توانائی
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔