کوہاٹ میں تیل وگیس کے بڑے ذخائر دریافت،روزانہ 4100 بیرل تیل نکالا جاسکے گا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-23
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے امور پر اجلاس میں بتایا گیا کہ ان ذخائر سے یومیہ 4100 بیرل تیل نکالا جا سکے گا، جون 2026ء تک آر ایل این جی کے ساڑھے3 لاکھ کنکشنز کا ٹارگٹ مکمل کر لیا جائے گا۔او جی ڈی سی ایل ترجمان کے مطابق براگزئی ایکس کنواں کو 5,170 میٹر گہرائی تک کھودا گیا، نشپا بلاک میں او جی ڈی سی بطور آپریٹر 65 فیصد جب کہ پی پی ایل30 فیصد اور جی ایچ پی ایل 5 فیصد کے حصے دار ہیں۔ترجمان کے مطابق نشپا میں ڈٹہ فارمیشن میں ہائیڈروکاربن سے بھرپور 187 میٹر زون کی کامیاب نشاندہی ہوئی۔او جی ڈی سی نے تیل و گیس کی دریافت کو قوم کے لیے نئے سال کا بڑا تحفہ قرار دیا ہے۔دوران اجلاس وزیراعظم نے ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد دی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیل و گیس ترسیل کی سپلائی چین ڈیجیٹائزیشن سے اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی، ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے، اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہونے والا زرمبادلہ بچے گا۔وزیراعظم نے تیل و گیس سپلائی چین درآمد سے صارفین کے استعمال تک ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او جی ڈی سی میں تیل تیل و گیس گیس کے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔