اسلام آباد ہائیکورٹ: قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتاری اغوا کے مترادف قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعے کے روز ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پولیس کی جانب سے قانونی طریقۂ کار اختیار کیے بغیر کی گئی کوئی بھی گرفتاری اغوا کے مترادف ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کی تعیناتی کے لیے عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ عدالت نے لاہور اور بہاولپور میں خواتین اور بچوں کے اغوا سے متعلق گمشدگی کے مقدمات کی سماعت کے دوران سنایا۔
ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق واقعے میں ملوث افسران کو شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر اس عمل کا غلط استعمال کیا گیا یا انصاف میں مداخلت کی گئی تو ایسی کارروائی کالعدم سمجھی جائے گی۔
عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ کے طے شدہ اصول کے مطابق اگر کسی ایف آئی آر کو غیرقانونی قرار دیا جائے تو اس سے جڑی تمام کارروائیاں بھی کالعدم ہو جاتی ہیں تاہم عدالت نے یہ وضاحت بھی کی کہ فوجداری کارروائی کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ لاہور اور بہاولپور میں خواتین اور کم عمر بچوں کے اغوا کے مقدمات کے علاوہ سابق پی آئی اے سی ای او مشرف رسول سے متعلق ایک تنازع پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کا حکم
عدالت نے شہری وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے جاری کردہ 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف مقدمات خارج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جعلی پولیس مقابلہ اور جرمانہفیصلے میں مبینہ جعلی مقابلے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
قصوروار قرار پانے والے افسران پر فی کس ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جو بطور معاوضہ درخواست گزار ثنا سہیل کو ادا کیا جائے گا۔
عدالت نے حکم دیا کہ خاتون سے برآمد کی گئی تمام گاڑیاں، نقد رقم اور زیورات واپس کیے جائیں۔
علاوہ ازیں لاہور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش کی جائے۔
مزید پڑھیں: ججوں کے تبادلے سے متعلق قانون کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو متاثر کرے گا؟
اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے اور 30 دن کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ غیر قانونی گرفتاری قانونی کارروائی کے بغیر گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ غیر قانونی گرفتاری قانونی کارروائی کے بغیر گرفتاری اسلام ا باد ہائیکورٹ عدالت نے اغوا کے حکم دیا کی گئی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔