سابق بیوروکریٹ عنبرین جان کا نام بطور پیمرا چیئرپرسن تجویز، اتھارٹی کی پہلی خاتون سربراہ ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
سابق سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی نئی چیئرپرسن کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔ تقرری کی حتمی منظوری کے بعد وہ پیمرا کی پہلی خاتون سربراہ ہوں گی۔
اس وقت پیمرا کے چیئرمین محمد سلیم بیگ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’لازوال عشق‘ ریئلٹی شو کے خلاف شکایات پر پیمرا کا ردعمل آگیا
پیمرا کے نئے سربراہ کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت شہباز بابر نے کی۔ اجلاس میں عنبرین جان کے نام پر اتفاق رائے کیا گیا۔
کمیٹی کی متفقہ منظوری کے بعد امبرین جان کا نام حتمی توثیق کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دیا گیا ہے۔
گریڈ 22 کی سابق افسر امبرین جان اس سے قبل سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
مزید پڑھیے: پیمرا نے کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد کردی
وہ اس عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے 5 امیدواروں میں شامل تھیں، جن میں بریگیڈیئر (ر) انور احمد، متین حیدر، عرفان اشرف اور ڈاکٹر حمید خان بھی شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیمرا سابق بیوروکریٹ عنبرین جان عنبرین جان عنبرین جان پیمرا چیئرپرسن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیمرا سابق بیوروکریٹ عنبرین جان عنبرین جان پیمرا چیئرپرسن کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔