غزہ میں امدادی اداروں پر پابندی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، بلال سلیم قادری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
جنرل سیکرٹری پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ غزہ پہلے ہی بدترین انسانی بحران کا شکار ہے، جہاں خوراک، ادویات، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے, ایسے میں امدادی اداروں پر پابندی لگا کر اسرائیل نے انسانیت دشمنی کی تمام حدیں عبور کرلی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں امدادی اداروں پر پابندی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، عالمی برادری فوری کارروائی کرے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امدادی اداروں پر پابندی لگانے کی شدید مذمت کرتی ہے، اسرائیل کا یہ اقدام کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور عالمی قوانین کی صریح پامالی ہے، اسرائیل کا یہ ظالمانہ فیصلہ نہ صرف جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اس سے غزہ کے مظلوم عوام کو بنیادی انسانی ضروریات سے محروم کرنے کی سازش بھی واضح ہوتی ہے۔
بلال سلیم قادری نے اقوام متحدہ، او آئی سی، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کریں اور اسرائیل پر فوری اور مثر پابندیاں عائد کریں، اگر عالمی ادارے آج بھی خاموش رہے تو تاریخ انہیں بھی اس ظلم میں برابر کا شریک سمجھے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر فورم پر اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کرتی رہے گی، پوری امت مسلمہ اور آزادی پسند اقوام کو متحد ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنی ہوگی تاکہ اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز اقدامات کا سدباب کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امدادی اداروں پر پابندی پاکستان سنی تحریک انسانی حقوق کی
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں