نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کے وفد کی گورنر اور کور کمانڈر پشاور سے اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کور کمانڈر پشاور نے شرکاء کے سوالات کے جامع اور مفصل جوابات دیے۔ شرکا کو صوبے کے امن و امان، انسدادِ دہشتگردی اور بارڈر مینجمنٹ کے متعلق مؤثر اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کے وفد نے پشاورکا دورہ کیا اور گورنر خیبر پختوخوا اورکور کمانڈر پشاور سے ملاقات کی۔ تفصیلات کے مطابق وفد نے یادگارِ شہداء پرحاضری دی اور شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ وفد نے مادرِ وطن کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نےکور کمانڈر پشاور سے بھی ملاقات کی۔ کور کمانڈر پشاور نے شرکاء کے سوالات کے جامع اور مفصل جوابات دیے۔ شرکا کو صوبے کے امن و امان، انسدادِ دہشتگردی اور بارڈر مینجمنٹ کے متعلق مؤثر اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
شرکاء نے گورنر ہاؤس پشاور کے دورے میں گورنر خیبر پختونخوا سے مختلف قومی و علاقائی امور پر گفتگو کی۔ شرکاء نے قلعہ بالا حصار میوزیم کا دورہ بھی کیا جہاں انہیں تاریخی وثقافتی ورثے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ نشینل سیکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان اور فرنٹیئر کور ہماری محافظ اور ملک کی سالمیت وترقی کی ضامن ہیں۔ کور کمانڈر پشاور کیساتھ منعقدہ سیشن میں ہمیں بارڈر مینجمنٹ کے حقیقی مسائل, اوردیگر چیلنجز سے متعلق تفصیلی آگاہی دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کور کمانڈر پشاور سیکیورٹی ورکشاپ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔